
اگر کوئی طالب علم کسی عذر کی بنا پر، یا بیمار ہونے پر درسِ حدیث میں حاضر نہ ہوا، تو کیا اس کی سند منقطع ہو جائے گی یا استاذ کی اجازت پر موقوف ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی طالب علم آن لائن یا ریکارڈنگ کے ذریعےسے درس حدیث سنے تو کیا اس سے سند کا اتصال آجاتا ہے؟
۱- محدثین کے نزدیک تحملِ حدیث کے آٹھ طریقے ہیں، جو درج ذیل ہیں:
1۔ سماع من لفظِ الشیخ (یعنی استاذ قراءت کرے طالبِ علم براہِ راست سنے)۔
2۔ قراءت علی الشیخ (یعنی طالبِ علم قراءت کرے اور استاذ سنے)۔
3۔ الاجازہ (اس کی بھی سات یا نو اقسام ہیں)۔
4۔ المناولہ۔
5۔ الکتابۃ۔
6 ۔الاعلام۔
7۔ الوصیۃ۔
8۔ الوجادۃ۔
مذکورہ بالا طریقوں کے مراتب میں اہلِ فن کے درمیان تفصیل پائی جاتی ہے، تاہم بالعموم ”سماع“ اور ”قراءت“ اعلیٰ طریقوں میں شمار ہوتے ہیں۔
لہٰذا اگر کوئی طالبِ علم شروع سے ہی اپنے استاذ کے درسِ حدیث میں شریک رہے، درمیان میں کوئی غیر حاضری نہ کرے، اور استاذ خود حدیث پڑھے اور طالبِ علم سنے، یا طالبِ علم عبارت پڑھے اور استاذ سنے، تو مجموعی اعتبار سے اس طالبِ علم کا درجہ اس طالبِ علم سے بڑھ کر ہوتا ہے جو کسی مجبوری کے تحت ایک دو یا کچھ دن درس میں غیر حاضر رہے، اگرچہ سال کے آخر میں اسے بھی ان چھوٹی ہوئی روایات کی اجازت دے دی جائے، لیکن اس کی تمام روایات پہلے طالبِ علم کے درجے کی نہیں ہوں گی، کیوں کہ غیر حاضری والے دن کی روایات اجازت پر موقوف ہوتی ہیں، جو تحملِ حدیث کا ایک نچلا (تیسرا) درجہ ہے۔
۲- اگر آن لائن یا کسی متعین طلبہ کو وائس میسج یا آڈیو کے ذریعے اجازتِ حدیث دے دی جائے تو وہ شرعاً معتبر ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اجازت واضح اور متعین افراد کے لیے ہو، تاہم آن لائن ویڈیو کال کے ذریعے اجازت کی مجلس قائم کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ اس میں ذی روح کی تصویر سازی ہوتی ہے جو جائز نہیں، البتہ محض اجازتِ حدیث کی ریکارڈنگ سن لینے سے اجازت حاصل نہیں ہوتی، کیوں کہ یہ اجازت اسی مجلس اور انہی افراد تک خاص ہوتی ہے جنہیں دی گئی ہو۔
جہاں تک سند کے متصل یا منقطع ہونے کا تعلق ہے، تو وہ حدیث کے روات اور نقلِ روایت سے متعلق ہے، نہ کہ محض تحملِ حدیث کے طریقوں سے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ: ”اگر کوئی طالبِ علم درسِ حدیث میں حاضر نہ ہوا تو کیا اس کی سند منقطع ہو جائے گی“ فنی اعتبار سے درست نہیں، کیوں کہ موجودہ زمانے میں اجازتِ حدیث کا حاصل ہونا یا نہ ہونا اصل سند کے ثبوت کے لیے شرط نہیں، بلکہ یہ محض برکت اور علمی نسبت کے باب سے ہے، اور احادیث کی اسناد اس سےپہلے ہی مرتب اور محفوظ ہو چکی ہیں۔
مقدمة ابن الصلاح میں ہے:
"بيان أقسام طرق نقل الحديث وتحمله، ومجامعها ثمانية أقسام:
القسم الأول: السماع من لفظ الشيخ، وهو ينقسم إلى إملاء، وتحديث من غير إملاء، وسواء كان من حفظه أو من كتابه. وهذا القسم أرفع الأقسام عند الجماهير."
(النوع الرابع والعشرون، معرفة كيفية سماع الحديث وتحمله وصفة ضبطه، ص: 251، ط: دار الكتب العلمية)
تدريب الراويمیں ہے:
"(القسم الثالث) من أقسام التحمل (الإجازة، وهي أضرب) تسعة وذكرها المصنف كابن الصلاح سبعة (الأول: أن يجيز معينا لمعين: كأجزتك) أو أجزتكم أو أجزت فلانا الفلاني (البخاري أو ما اشتملت عليه فهرستي) أي جملة عدد مروياتي ... (وهذا أعلى أضربها) أي الإجازة (المجردة عن المناولة، والصحيح الذي قاله الجمهور من الطوائف) أهل الحديث وغيرهم (واستقر عليه العمل جواز الرواية والعمل بها) ، وادعى أبو الوليد الباجي وعياض الإجماع عليها، وقصر أبو مروان الطبني الصحة عليها."
(النوع الرابع والعشرون: كيفية سماع الحديث، وتحمله، وصفة ضبطه، القسم الثالث الإجازة وهي على أضرب، 1/ 448، ط: دار طيبة)
مقدمة ابن الصلاح میں ہے:
"النوع الثاني من أنواع الإجازة: أن يجيز لمعين في غير معين، مثل أن يقول: (أجزت لك، أو لكم جميع مسموعاتي، أو جميع مروياتي)، وما أشبه ذلك، فالخلاف في هذا النوع أقوى وأكثر. والجمهور من العلماء من المحدثين والفقهاء وغيرهم على تجويز الرواية بها أيضا، وعلى إيجاب العمل بما روي بها بشرطه، والله أعلم."
(النوع الرابع والعشرون معرفة كيفية سماع الحديث وتحمله، تفريعات، ص: 268، ط: دار الكتب العلمية)
وفيه أيضا:
"النوع الثالث من أنواع الإجازة: أن يجيز لغير معين بوصف العموم، مثل أن يقول: (أجزت للمسلمين، أو أجزت لكل أحد، أو أجزت لمن أدرك زماني)، وما أشبه ذلك، فهذا نوع تكلم فيه المتأخرون ممن جوز أصل الإجازة واختلفوا في جوازه: فإن كان ذلك مقيدا بوصف حاصر أو نحوه فهو إلى الجواز أقرب. وممن جوز ذلك كله أبو بكر الخطيب الحافظ ... قلت: ولم نر ولم نسمع عن أحد ممن يقتدى به أنه استعمل هذه الإجازة فروى بها، ولا عن الشرذمة المستأخرة الذين سوغوها، والإجازة في أصلها ضعف، وتزداد بهذا التوسع والاسترسال ضعفا كثيرا لا ينبغي احتماله، والله أعلم."
(النوع الرابع والعشرون معرفة كيفية سماع الحديث وتحمله، تفريعات، ص: 269، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100256
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن