
آج کل ڈیٹا سائنس کا دور ہے۔ ایسی کوئی جاب جس میں ڈیٹا فارکاسٹ ہے جو کہ آنے والے وقت سے پہلے بتا دیتا ہے کہ اگلے سال میں بزنس کی کیا صورتحال رہے گی۔ جیسے موسم کا حال وقت سے پہلے بتا دیا جاتا ہے کیا ایسی جاب کرنا جائز ہے یا یہ بھی نجوم/پریڈکشن میں آئیگا۔
ملکی و عالمی صورت حال کو بنظر عمیق دیکھ کر آنے والے سال کے حوالہ سے معیشت کے بارے میں تجزیہ پیش کرنا فی نفسہ جائز ہے، اس کا تعلق علم نجوم سے نہیں البتہ ستاروں کی چال کی بنیاد پر کسی بھی حوالہ سےپیش گوائی کرنا ، اور اس پر یقین کرناحرام ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں مستقبل میں کاروباری صورت حال میں کے حوالہ سے تجزیہ کرنے کی نوکری کرنے کی گنجائش ہوگی۔تا ہم اپنےیا کسی اور کے تجزیوں کو 100 فیصد درست سمجھنا غلط ہوگا، کیوں مستقبل کا یقینی علم قادر مطلق کارسازِ عالم ذاتِ باری تعالی کو ہے، وہی احوال کو الٹتا پلٹتا ہے، وہی بگڑی کو بنا دیتا ہے، و ہی بنے بنائے کو اپنی حکمت کاملہ کی بنیاد پر بگاڑ دیتا ہے۔
صحيح البخاري میں ہے:
عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " مفتاح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله: لا يعلم أحد ما يكون في غد، ولا يعلم أحد ما يكون في الأرحام، ولا تعلم نفس ماذا تكسب غدا، وما تدري نفس بأي أرض تموت، وما يدري أحد متى يجيء المطر ."
(کتاب الصلاۃ، ابواب الکسوف، ج: 1، ص: 318، رقم الحدیث: 1039، ط: البشری)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: والتنجيم) هو علم يعرف به الاستدلال بالتشكلات الفلكية على الحوادث السفلية. اهـ. ح. وفي مختارات النوازل لصاحب الهداية أن علم النجوم في نفسه حسن غير مذموم، إذ هو قسمان: حسابي وإنه حق، وقد نطق به الكتاب. قال الله تعالى - {الشمس والقمر بحسبان} [الرحمن: 5]- أي سيرهما بحساب. واستدلالي بسير النجوم وحركة الأفلاك على الحوادث بقضاء الله تعالى وقدره، وهو جائز كاستدلال الطبيب بالنبض من الصحة والمرض ولو لم يعتقد بقضاء الله تعالى أو ادعى الغيب بنفسه يكفر، ثم تعلم مقدار ما يعرف به مواقيت الصلاة والقبلة لا بأس به. اهـ. وأفاد أن تعلم الزائد على هذا المقدار فيه بأس بل صرح في الفصول بحرمته وهو ما مشى عليه الشارح. والظاهر أن المراد به القسم الثاني دون الأول؛ ولذا قال في الإحياء: إن علم النجوم في نفسه غير مذموم لذاته إذ هو قسمان إلخ ثم قال ولكنه مذموم في الشرع. وقال عمر: تعلموا من النجوم ما تهتدوا به في البر والبحر ثم امسكوا، وإنما زجر عنه من ثلاثة أوجه:
أحدها: أنه مضر بأكثر الخلق، فإنه إذا ألقى إليهم أن هذه الآثار تحدث عقيب سير الكواكب وقع في نفوسهم أنها المؤثرة.
وثانيها: أن أحكام النجوم تخمين محض، ولقد كان معجزة لإدريس - عليه السلام - فيما يحكى وقد اندرس.
وثالثها: أنه لا فائدة فيه، فإن ما قدر كائن والاحتراز منه غير ممكن اهـ ملخصاً"
(مقدمة، ج: 1، ص: 43، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101566
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن