بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دس دن سے زیادہ خون جاری رہنے کی صورت میں نماز و ازدواجی تعلقات کا حکم


سوال

مجھے پیریڈز کی شروعات سپوٹنگ سے ہوئی تھی اور تین، چار  دن بعد باقاعدہ بلیڈنگ شروع ہوگئی ، اب کل میرےدس  دن مکمل ہو جائیں گے۔میری عمومی عادت نو  دن کی ہے تقریبا۔ اور تاریخيں بدلتی رہتی ہیں، یعنی پچھلے مہینے کی تاریخ سے چار، پانچ دن پہلے ہو جاتے ہیں۔

اب آپ میری رہنمائی فرما دیں کہ میں کیاکروں؟ ایسی صورت میں کہ اگر میری عادت دس  دن سے بڑھ جائے ؟ مجھے قوی امید ہے کہ یہ دس دن سے اوپر معاملہ جائےگا۔

نیز یہ بھی رہنمائی فرمائیں کہ نماز کے علاوہ دیگر ازدواجی معاملات میں بھی ٹھہراؤ آگیا تھا۔ اب کیا ان سے بھی رکے رہیں گے اگر بات دس دن سے آگے بڑھی تو؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر خون دس دن سے تجاوز نہ کرے،اور دس دن پر رک جائے  تو سائلہ کی آئندہ عادت دس دن شمار کی جائے گی۔اور اگر خون دس دن سے تجاوز کر جائے، تو سائلہ کی سابقہ عادت (یعنی نو دن) برقرار رہے گی  ،اور سائلہ پر دسویں دن کی نمازوں کی قضا لازم ہوگی۔

نیز جب خون دس دن سے بڑھ جائے تو عادت کے بعد آنے والا خون استحاضہ شمار ہوگا،لہذاسائلہ  غسل کرکے پاکی حاصل کرے ۔ استحاضہ  کے دنوں  میں ہر نماز کےوقت تازہ وضو کیا جائے گا، اور اس وقت کے ختم ہونے تک اسی وضو سے نماز، تلاوت، طواف وغیرہ کی عبادات کی جاسکتی ہیں، بشرط یہ کہ کوئی اور وضو توڑنے کا   سبب پیش نہ آئے اور نماز کا وقت ختم ہوتے ہی  وضو بھی ٹوٹ  جائے گا، اورپھر  نماز وغیرہ کے لیے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہوگا۔

نیز ازدواجی تعلق کاشرعی حکم یہ ہے: کہ اگر حیض کاخون  عادت اور اکثر مدت حیض( دس دن )سے پہلے بندہوجائے  تو ازدواجی تعلق قائم کرناجائزنہیں،  البتہ غسل کرکے  پاکی حاصل کرکے نماز ،روزہ   بجالانے کی پابندہوگی  اور شوہر سے ملاپ جائز نہیں ہوگا،اور اگر عادت کے مطابق خون بندہوجائے تو پاکی حاصل کرنے سے پہلے ازدواجی تعلق قائم کرناناجائز ہوگا۔اور اگر اکثر مدت حیض ( دس دن) پر خون بندہوجائے تو پاکی حاصل کرنے سےپہلے  ازدواجی تعلق قائم کرناجائز ہے ،تاہم مستحب یہی ہےکہ پاکی حاصل کرلیں ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(والزائد) على أكثره أو أكثر النفاس أو على العادة وجاوز أكثرهما. (وما تراه) صغيرة دون تسع على المعتمد وآيسة على ظاهر المذهب (حامل) ولو قبل خروج أكثر الولد (استحاضة.)(قوله والزائد على أكثره) أي في حق المبتدأة، أما المعتادة فما زاد على عادتها ويجاوز العشرة في الحيض والأربعين في النفاس يكون استحاضة كما أشار إليه بقوله أو على العادة إلخ. أما إذا لم يتجاوز الأكثر فيهما، فهو انتقال للعادة فيهما، فيكون حيضا ونفاسا رحمتي."

 (کتاب الطهارت، باب الحیض،ج:1،ص:285،ط:سعید)

وفیہ ایضا:

"(ويحل وطؤها إذا انقطع حيضها لأكثره) بلا غسل وجوبا بل ندبا.(وإن) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت، وإن (لأقله) فإن لدون عادتها لم يحل، وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطا؛ وإن لعادتها، فإن كتابية حل في الحال وإلا (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه.(قوله إذا انقطع حيضها لأكثره) مثله النفاس، وحل الوطء بعد الأكثر ليس بمتوقف على انقطاع الدم صرح به في العناية والنهاية وغيرهما، وإنما ذكره ليبني عليه ما بعده قال ط: ويؤخذ منه جواز الوطء حال نزول دم الاستحاضة اهـ."

 (کتاب الطهارت،باب الحیض،ج:1،ص: 294،ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے :

" إذا مضى أكثر مدة الحيض وهو العشرة يحل وطؤها قبل الغسل مبتدأة كانت أو معتادة ويستحب له أن لا يطأها حتى تغتسل. هكذا في المحيط...انتقال العادة يكون بمرة عند أبي يوسف وعليه الفتوى."

 (کتاب الطهارت،الباب السادس،الفصل الرابع،ج:1،ص:39،ط:ألمكتبة ألحبيبة-كوئته)

البحرالرائق میں ہے:

"قال الأزهري: الاستحاضة سيلان الدم في غير أوقاته المعتادة...(ولو زاد الدم على أكثر الحيض والنفاس فما زاد على عادتها استحاضة)؛ لأن ما رأته في أيامها حيض بيقين وما زاد على العشرة استحاضة بيقين وما بين ذلك متردد بين أن يلحق بما قبله فيكون حيضًا فلاتصلي وبين أن يلحق بما بعده فيكون استحاضةً فتصلي فلاتترك الصلاة بالشك فيلزمها قضاء ما تركت من الصلاة".

(كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص:220، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144704102145

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں