
صورتِ حال کی تفصیل درج ذیل ہے۔ پسِ منظر: ہمارے علاقے میں ایک خاتون ہیں جو خواتین کے کپڑے سیتی (سلائی کرتی) ہیں۔ وہ صرف مجھ پر اعتماد کرتی ہیں اور میرے ذریعے آنے والے کام کو ترجیح دیتی ہیں۔ چونکہ میں بیچ میں رابطہ کار (Middleman / Intermediary) کا کردار ادا کرتا ہوں، اس لیے کپڑوں کی تمام تر دیکھ بھال، ان کے گم ہونے یا چوری ہونے کی اخلاقی و عملی ذمہ داری بھی مجھ پر ہی آتی ہے۔ معاملے کی نوعیت: کچھ لوگ (گاہک) اپنے ان سلے کپڑے میرے پاس لاتے ہیں اور مجھے کہتے ہیں کہ یہ کپڑے سلوا کر دیں۔ گاہک اس بات سے واقف ہوتے ہیں کہ سلائی میں خود نہیں کرتا بلکہ آگے اسی خاتون سے کرواتا ہوں۔ جب میں اس درزن (سلائی کرنے والی خاتون) سے مزدوری معلوم کرتا ہوں، تو وہ مجھے 50,000 روپے بتاتی ہیں۔ (یہ خاص رعایت اور طے شدہ قیمت صرف میرے لیے ہوتی ہے)۔ میں گاہک کو سلائی کی رقم 60,000 روپے بتاتا ہوں۔ اس طرح 10,000 روپے میں اپنا منافع/خدمات کا معاوضہ (Profit / Commission) رکھتا ہوں۔ گاہک کو یہ 10,000 روپے الگ سے بتائے بغیر کل رقم (60,000) بتائی جاتی ہے، کیونکہ اگر میں گاہک کو یہ کہوں کہ اس میں 10,000 روپے میرا کمیشن ہے تو وہ دینے پر رضامند نہیں ہوں گے۔ اس 10,000 روپے کو اپنے نفع میں شامل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں گاہک کے کپڑے لانے، درزن کو دینے، کام کی نگرانی کرنے (کہ سلائی اچھی ہو)، اور کپڑوں کے ضائع یا چوری ہونے کی ذمہ داری اٹھانے کی محنت اور وقت صرف کرتا ہوں۔ درپیش شرعی سوالات: کیا میرے لیے گاہک سے اصل قیمت (50,000) پر 10,000 روپے اضافہ کر کے 60,000 روپے بتانا اور وہ 10,000 روپے بطورِ منافع اپنے پاس رکھنا شرعاً جائز ہے؟ اگر میں گاہک کو اپنے اس نفع/کمیشن کا الگ سے نہ بتاؤں، تو کیا یہ عقد (معاملہ) شرعی لحاظ سے درست ہے یا اس میں گاہک کو صراحت کے ساتھ بتانا ضروری ہے؟ اگر موجودہ طریقہ کار میں کوئی شرعی قباحت یا خرابی ہے، تو اس کو جائز اور حلال بنانے کی صحیح شرعی صورت (طریقہ) کیا ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں چوں کہ سائل گاہک سے خود کام کی ذمہ داری قبول کرتا ہے، کپڑوں کی حفاظت، نگرانی اور ضیاع و چوری کا ضمان بھی اسی پر ہوتا ہے، اس لیے وہ شرعاً "اجیرِ مشترک" ہے، اور اجیر کے لیے جائز ہے کہ وہ کام خود کرے یا اپنے کسی کاریگر سے کروائے، جب کہ گاہک نے اس کے اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی شرط نہ لگائی ہو۔
لہٰذا سائل کا گاہک سے ساٹھ ہزار روپے میں کام کا معاملہ طے کرکے، پچاس ہزار میں درزن سے سلائی کروانا اور بقیہ دس ہزار روپے اپنی محنت، نگرانی اور ضمان کے عوض بطورِ نفع رکھنا جائز ہے، اور گاہک کو الگ سے یہ بتانا ضروری نہیں کہ اس میں میرا نفع کتنا ہے؛ جس طرح بیچنے والے پر اپنی خرید کی قیمت بتانا لازم نہیں۔
البتہ ضروری یہ ہے کہ سائل گاہک سے جھوٹ نہ بولے، یعنی یہ نہ کہے کہ "درزن کی اجرت ساٹھ ہزار ہے"، بلکہ یوں کہے کہ "میں یہ کپڑے ساٹھ ہزار میں سلوا کر دوں گا"؛ اس طرح معاملہ صاف اور جھوٹ سے پاک رہے گا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وللأجير أن يعمل بنفسه وأجرائه إذا لم يشترط عليه في العقد أن يعمل بيده؛ لأن العقد وقع على العمل، والإنسان قد يعمل بنفسه وقد يعمل بغيره؛ ولأن عمل أجرائه يقع له فيصير كأنه عمل بنفسه، إلا إذا شرط عليه عمله بنفسه؛ لأن العقد وقع على عمل من شخص معين، والتعيين مفيد؛ لأن العمال متفاوتون في العمل فيتعين فلا يجوز تسليمها من شخص آخر من غير رضا المستأجر، كمن استأجر جملا بعينه للحمل لا يجبر على أخذ غيره، ولو استأجر على الحمل ولم يعين جملا كان للمكاري أن يسلم إليه أي جمل شاء، كذا ههنا."
(كتاب الإجارة، فصل في حكم الإجارة، ج:4، ص:208، ط:دار الكتب)
اللباب فی شرح الکتاب میں ہے:
"(وإذا اشترط) المستأجر (على الصانع أن يعمل بنفسه فليس له) : أي الصانع (أن يستعمل غيره) ؛ لأنه لم يرض بعمل غيره (وإن أطلق له العمل فله أن يستأجر من يعمله) ؛ لأن المستحق عملٌ في ذمته، ويمكن إيفاؤه بنفسه وبالاستعانة بغيره، بمنزلة إيفاء الدين، والعادة جارية أن الصناع يعملون بأنفسهم وبأجرائهم."
(کتاب الاجارۃ، ج:2، ص:102، ط:المكتبة العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101881
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن