
پھلوں کی بیع کے جواز و عدم جواز کی صورتیں بالتفصیل اور بدو صلاح کی وضاحت مفصل و مدلل مطلوب ہے۔
واضح رہے کہ درختوں پر لگے پھلوں کی خرید وفروخت کے جائز ہونے کے لیے شرعا یہ ضروری ہے کہ درخت پر پھل ظاہر ہوچکے ہوں،جب تک پھول میں سے پھل ظاہر نہ ہوجائیں، اس وقت تک پھلوں کو بیچنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ معدوم کی بیع ہے، جو کہ جائز نہیں ہے، البتہ پھل ظاہر ہونے اور آفت سے محفوظ ہونے کے بعد اس کو فروخت کرنا جائز ہے،اگرچہ پک کر تیار نہ ہوئے ہوں۔
نیز پھل پکنے سے پہلے بیچنے کی صورت میں فروخت کرنے والے کی جانب سے فوری پھل توڑنے کی شرط لگائی گئی ہو، یا فروخت کرنے والے اور بیچنے والے کی جانب سے پھل کے کاٹنے یا نا کاٹنے سے متعلق کوئی شرط نہ رکھی گئی ہو، بلکہ مطلق سودا کیا گیا ہو، تو اس صورت میں بیع جائز ہوتی ہے، اس کے بعد اگر بائع (بیچنے والا) اپنی رضامندی سے پھل قابلِ انتفاع ہونے (یعنی پکنے) تک درخت پر چھوڑ دے تو یہ بھی جائز ہے، لیکن اگر سودا کرتے وقت پھل پکنے تک درختوں پر چھوڑنے کی شرط لگائی تو یہ شرط فاسد ہے، ایسی شرط عقد میں لگانا جائز نہیں ہے، لہٰذا فروخت کنندہ اگر پھل پکنے سے پہلے اتارنے کا کہے تو خریدار پھل اتارنے کا پابند ہوگا، عرف کی بنیاد پر فروخت کنندہ کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ومن باع ثمرةً بارزةً) أما قبل الظهور فلايصح اتفاقًا. (ظهر صلاحها أو لا صح) في الأصح.
(قوله: أما قبل الظهور) أشار إلى أن البروز بمعنى الظهور، والمراد به انفراد الزهر عنها وانعقادها ثمرة وإن صغرت.
(قوله: ظهر صلاحها أو لا) قال: في الفتح لا خلاف في عدم جواز بيع الثمار قبل أن تظهر ولا في عدم جوازه بعد الظهور قبل بدو الصلاح، بشرط الترك ولا في جوازه قبل بدو الصلاح بشرط القطع فيما ينتفع به، ولا في الجواز بعد بدو الصلاح، لكن بدو الصلاح عندنا أن تؤمن العاهة والفساد، ... (قوله: لا يصح في ظاهر المذهب) قال: في الفتح: ولو اشتراها مطلقا أي بلا شرط قطع أو ترك فأثمرت ثمرا آخر قبل القبض فسد البيع؛ لأنه لا يمكنه تسليم المبيع لتعذر التمييز فأشبه هلاكه قبل التسليم، ولو أثمرت بعد القبض يشتركان فيه للاختلاط، والقول قول المشتري في مقداره مع يمينه؛ لأنه في يده وكذا في بيع الباذنجان والبطيخ إذا حدث بعد القبض خروج بعضها اشتركا كما ذكرنا. اهـ.
ومقتضاه أنها لو أثمرت بعد القبض يصح البيع في الموجود وقت البيع، فإطلاق المصنف تبعا للزيلعي محمول على ما إذا باع الموجود والمعدوم كما يفيده ما يأتي عن الحلواني، ما ذكره في الفتح من التفصيل محمول على ما إذا باع الموجود فقط، وعلى هذا فقول الفتح عقب ما قدمناه عنه، وكان الحلواني يفتي بجوازه في الكل إلخ، لا يناسب التفصيل الذي ذكره؛ لأنه لا وجه لجواز البيع في الكل إذا وقع البيع على الموجود فقط فاغتنم هذا التحرير."
(كتاب البيوع، مطلب في بيع الثمر والزرع والشجر مقصودا، 4/ 554-555، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وفي بيع الزرع والرطبة والحشيش بيع الثمار قبل الظهور لا يصح اتفاقا فإن باعها بعد أن تصير منتفعا بها يصح وإن باعها قبل أن تصير منتفعا بها بأن لم تصلح لتناول بني آدم وعلف الدواب فالصحيح أنه يصح وعلى المشتري قطعها في الحال هذا إذا باع مطلقا أو بشرط القطع فإن باع بشرط الترك فسد البيع وهذا إذا لم يتناه عظمها فإن تناهى عظمها فباعها مطلقا أو بشرط القطع صح وإن باع بشرط الترك لم يصح قياسا عند أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى - وصح استحسانا عند محمد - رحمه الله تعالى - وفي الأسرار أن الفتوى على قوله كذا في الكافي وفي التحفة الصحيح قولهما كذا في النهر الفائق."
(كتاب البيوع، الباب التاسع، الفصل الثاني في بيع الثمار وإنزال الكروم والأوراق والمبطخة، 3/ 106، ط:رشيدية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706101454
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن