
تھوڑی کے نیچے حلق پر بال ہیں، کیا وہ بھی ڈاڑھی میں شامل ہیں، نیز یہ بھی واضح کریں کہ ڈاڑھی کی مکمل حدود کیا ہیں؟مونچھوں کی کٹائی قینچی سے کریں، یا حلق کریں، نیز اگر کوئی مونچھوں کو حلق کرے تو کیا اس کو منع کرنے کی اجازت ہے؟ یا اس کے اس عمل کو غلط کہنا درست ہے؟
واضح رہے کہ داڑھی تمام انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی سنت، مسلمانوں کا قومی شعار اور مرد کی فطری اور طبعی چیزوں میں سے ہے، ا سی لیے رسول اللہ ﷺ نے اس شعار کو اپنانے کے لیے اپنی امت کو ہدایات دی ہیں اور اس کے رکھنے کا حکم دیا ہے، اس لیے جمہور علمائے امت کے نزدیک داڑھی رکھنا واجب اور اس کو کترواکریا منڈوا کر ایک مشت سےکم کرنا حرام ہے اور کبیرہ گناہ ہے۔اور اس کا مرتکب فاسق اور گناہ گار ہے۔
داڑھی کی شرعی حدود کانوں کے پاس جہاں سے جبڑے کی ہڈی شروع ہوتی ہے، یہاں سے داڑھی کی ابتدا ہےاور پورا جبڑا داڑھی کی حد ہے، اور بالوں کی لمبائی کے لحاظ سے داڑھی کی مقدار ایک مشت ہے، اس سے زائد بال ہوں تو اس کو کاٹ سکتے ہیں، لہذا کان کے نیچے جو بال ہیں ، اگر وہ جبڑے کی ہڈی سے باہر ہوں تو ان کو کاٹنا جائز ہے۔اسی طرح جو بال رخسار اور جبڑوں کے نیچے گلے / گردن پر ہوں ان پر شرعاً داڑھی کا اطلاق نہیں ہوتا، ان کو کاٹنا بھی جائز ہے۔
باقی نچلے ہونٹ سے متصل تھوڑی کے اوپر کے بال اور اس کے دائیں بائیں کا حصہ، جسے ریش بچہ کہا جاتا ہے،یہ داڑھی ہے، اس کو منڈوانایانوچنا بدعت و خلافِ سنت ہے، البتہ ہونٹوں کے قریب دونوں کناروں سے بال ختم کرنا؛ تاکہ کھانا کھاتے وقت منہ میں نہ جائیں ،درست ہے۔
داڑھی کے بارے میں یہی معمول آں حضرت ﷺ اور صحٰابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے ،چنانچہ ملاحظہ ہو:
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔
"أَنَّ النَّبِيَ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا.
ترجمہ: ’’نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی مبارک لمبائی اور چوڑائی میں کم کرتے تھے۔‘‘
(ترمذي، السنن، 5: 94، رقم: 2762، بيروت: دار احياء التراث العربي)
"عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلیٰ الله عليه وآله وسلم قَالَ: خَالِفُوا الْمُشْرِکِينَ وَفِّرُوا اللِّحَی وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ. وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَی لِحْيَتِهِ فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ".
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، مونچھیں باریک کرو اور داڑھی بڑھاؤ۔ حضرت ابن عمر جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو اضافی ہوتی اس کو کاٹ دیتے۔‘‘
(بخاري، الصحيح، 5: 2209، رقم: 5553، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة)
باقی مونچھوں سے متعلق نبی کریم ﷺ کا معمول خوب کترنے کا تھا، اس لیے مونچھیں اچھی طرح کتروانا سنت ہے،یعنی قینچی وغیرہ سے کاٹ کر اس حد تک چھوٹی کردی جائیں کہ مونڈنے کے قریب معلوم ہوں، احادیثِ طیبہ میں مونچھوں کے بارے میں ’’جزّ‘‘، ’’اِحفاء‘‘اور ’’اِنهاک‘‘کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ان سے قینچی وغیرہ سے لینا ہی مفہوم ہوتا ہے؛ اس لیے کہ ان الفاظ کے معنی مطلق کاٹنے یا مبالغہ کے ساتھ کاٹنے یا لینے کے ہیں، اسی لیے اکثر فقہاءِ احناف نے قصر یعنی قینچی سے مونچھیں کاٹنے کو ہی افضل قرار دیا ہے، البتہ استرہ اور بلیڈ سےمنڈانا بھی جائز ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ قینچی کا استعمال کیاجائے، احناف میں سے امام طحاوی رحمہ اللہ نے اگرچہ حلق کو افضل قرار دیا ہے، لیکن دیگر فقہاء ( مثلاً ملک العلماء علامہ کاسانی رحمہ اللہ وغیرہ) فرماتے ہیں کہ مونچھوں میں حلق سنت نہیں۔
البحر الرائق میں ہے:
" وفي شرح الإرشاد اللحية الشعر النابت بمجتمع اللحيين والعارض ما بينهما وبين العذار وهو القدر المحاذي للأذن يتصل من الأعلى بالصدغ ومن الأسفل بالعارض."
(کتاب الطهارة، سنن الوضوء: ج1، ص:16، ط: دار الکتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"و أما الأخذ منها وهي دون ذلك كما فعله بعض المغاربة و مخنثة الرجال فلم يبحه أحد، و أخذ كلها فعل يهود الهند و مجوس الأعاجم".
(2/ 418، كتاب الصوم ، باب مالايفسد الصوم، ط: سعيد)
وفیه أیضاً:
"(قوله: جميع اللحية) بكسر اللام وفتحها، نهر، وظاهر كلامهم أن المراد بها الشعر النابت على الخدين من عذار وعارض والذقن.
وفي شرح الإرشاد: اللحية الشعر النابت بمجتمع الخدين والعارض ما بينهما وبين العذار وهو القدر المحاذي للأذن، يتصل من الأعلى بالصدغ ومن الأسفل بالعارض، بحر".
(کتاب الطهارة: ج:1، ص:100، ط: سعید)
الموسوعۃ الفقہیۃ میں ہے:
"اللحية لغة : الشعر النابت على الخدين والذقن ، والجمع اللحى واللحى . ورجل ألحى ولحياني : طويل اللحية ، واللحي واحد اللحيين وهما : العظمات اللذان فيهما الأسنان من الإنسان والحيوان ، وعليهما تنبت اللحية . واللحية في الاصطلاح ، قال ابن عابدين : المراد باللحية كما هو ظاهر كلامهم الشعر النابت على الخدين من عذار ، وعارض ، والذقن".
(اللحیة: ج:35، ص: 222، ط: دار السلاسل)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ونتف الفنيكين بدعة وهما جانبا العنفقة وهي شعر الشفة السفلى كذا في الغرائب."
(5 / 358، كتاب الكراهية، ط: رشيدية)
حلبی کبیر میں ہے:
"و لو قدّموا فاسقاً يأثمون بناء علي أن كراهة تقديمه كراهة تحريم ؛ لعدم اعتنائه بأمور دينه، و تساهله في الإتيان بلوازمه..."الخ
(ص:513 ،514، كتاب الصلوة، الأولی بالإمامة، ط: سهيل اكيدمي)
فتاوی شامی میں ہے:
"واختلف في المسنون في الشارب هل هو القص أو الحلق؟ والمذهب عند بعض المتأخرين من مشايخنا أنه القص. قال في البدائع: وهو الصحيح. وقال الطحاوي: القص حسن والحلق أحسن، وهو قول علمائنا الثلاثة نهر. قال في الفتح: وتفسير القص أن ينقص حتى ينتقص عن الإطار، وهو بكسر الهمزة: ملتقى الجلدة واللحم من الشفة، وكلام صاحب الهداية على أن يحاذيه."
(2/ 550 ، كتاب الحج، باب الجنايات، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144611102497
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن