بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

داڑھی کی توہین کرنا


سوال

ایک شخص کسی مسلمان کے بارے میں معاذ اللہ یہ الفاظ کہے کہ’’اس کی داڑھی کاٹ کر اس کے پچھواڑے پر لگا دیں گے‘‘، تو ایسے شخص کا کیا حکم ہے اور اسے کیا کرنا ہوگا؟

جواب

داڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت اور شعائرِ اسلام میں سے ہے، اس کی گستاخی کرنا اور مذاق اڑانا دراصل سنت اور شعائرِ اسلام کامذاق اڑانا ہے جو کفر تک پہنچادینے والا عمل ہے۔

صورت مسئولہ میں جس شخص نے کسی مسلمان کے بارے میں یہ الفاظ کہے کہ’’ اس کی داڑھی کاٹ کر اس کے پچھواڑے پر لگا دیں گے‘‘، اس کا یہ جملہ انتہائی قبیح اور نامناسب ہے ،اس پر اس کہنے والے کو سخت توبہ و استغفار لازم ہے ،اور اگر اس شخص کا مقصد داڑھی کی سنت کا مذاق اڑانا تھا، تو تجدید ایمان لازم ہے، اگر شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح بھی لازم ہے۔ اور اگر سنت کا مذاق اڑانا مقصود نہیں تھا، بلکہ محض  اس شخص پرغصے میں  اس کے متعلق یہ الفاظ کہے تو کہنے والا کافر نہیں ہوا، البتہ سخت گناہ گار ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي الفتح: من هزل بلفظ كفر ارتد وإن لم يعتقده للاستخفاف فهو ككفر العناد.

ثم قال: ولاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمداً، بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافاً بها بسبب أنه فعلها النبي صلى الله عليه وسلم زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به، وإن لم يقصد الاستخفاف لأنه لو توقف على قصده لما احتاج إلى زيادة عدم الإخلال بما مر لأن قصد الاستخفاف مناف للتصديق."

(كتاب الجهاد، باب المرتد، 4/ 222، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311100178

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں