بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

”فلاں اپنی ڈاڑھی کٹوالے“ کہنے کا حکم


سوال

شوہر اور بیوی میں بات ہو رہی تھی بیوی نے شوہر کے بھائی کے بارے میں بولا کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے گی (ناک میں دم کرنا) اگر نہ کیا تو بھائی اپنی ڈاڑھی کٹوا لے۔ اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا کیسا ہے؟

 

جواب

صورت مسئولہ میں بیوی کایہ کہنا  ’’  اس کی بیوی اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے گی(ناک میں دم کرنا) اگر نہ کیا تو بھائی اپنی ڈاڑھی کٹوا لے‘‘ یہ الفاظ کہنا مناسب نہیں  ، ایسے الفاظ سےاجتناب  کرنا لازم ہے ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي الفتح: من هزل بلفظ كفر ارتد وإن لم يعتقده للاستخفاف فهو ككفر العناد.ثم قال: ولاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمداً، بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافاً بها بسبب أنه فعلها النبي صلى الله عليه وسلم زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به، وإن لم يقصد الاستخفاف لأنه لو توقف على قصده لما احتاج إلى زيادة عدم الإخلال بما مر لأن قصد الاستخفاف مناف للتصديق."

(كتاب الجهاد، باب المرتد، ج:4، صفحہ: 222، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101524

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں