بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

داڑھی کاٹنے والے کی اذان اور اقامت کا حکم


سوال

ایک شخص کی چھوٹی داڑھی ہے یعنی شرعی داڑھی نہیں تو کیا ایسا شخص داڑھی والوں کی موجودگی میں اذان اور اقامت کہہ سکتا ہے؟

جواب

داڑھی کاٹنا (یعنی ایک مشت سے کم کرنا)فسق ہے لہذا داڑھی کاٹنے والے کا اذان اور اقامت دینا مکروہ ہے۔ پس جب نیک، صلحاء، متبع سنت لوگ موجود ہوں تو پھر وہ ہی اذان اور اقامت کے مستحق ہیں۔، البتہ اگر داڑھی کاٹنے والے نے اذان کہی تو اس کا اعادہ لازم نہیں ۔

الفتاوى العالمكيرية  میں ہے:

"وينبغي أن يكون المؤذن رجلا عاقلا صالحا تقيا عالما بالسنة."

(کتاب الصلاۃ باب الاذان ج نمبر ۱ ص نمبر ۵۳،دار الفکر)

الفتاوى العالمكيرية  میں ہے:

"ويكره أذان الفاسق ولا يعاد. هكذا في الذخيرة."

(کتاب الصلاۃ باب الاذان ج نمبر ۱ ص نمبر ۵۴،دار الفکر)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «ليؤذن لكم ‌خياركم وليؤمكم قراؤكم» ". رواه أبو داود."

ــ(باب الامامہ ج نمبر ۳ ص نمبر ۸۶۴،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144705100376

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں