بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1447ھ 07 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

داڑھی کاٹنا اور اس پر اجرت لینے کا حکم


سوال

میں حجام ہوں ، لوگوں کے بال داڑھی وغیرہ بناتا ہوں، یہ کام سیکھنے سے پہلے مجھے علم نہیں تھا کہ داڑھی کی کٹنگ کرنا ، ڈیزائن وغیرہ کی کمائی حلال ہے یا نہیں؟ اب مجھ سے میرے والدین  اس کو کام کو چھوڑنے پر ناراض ہیں، اور کہتے ہیں اس کام کی کمائی حلال ہے اور یہ انہیں ان کے پیر حضرات نے بتایا ہے(جو کہ اہل تشیع ہیں) جب کہ مجھ سے بڑے بھائی بھی اچھا خاصا کماتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ داڑھی کی کٹنگ کرنا ڈیزائن بنانا وغیرہ کی کمائی حلال ہے یا حرام ؟ اور والدین کا اس کام کے چھوڑنے پر ناراض ہونا درست ہے یا نہیں؟

جواب

ایک مشت داڑھی رکھنا سنت ہے، ایک مشت سے کم داڑھی کاٹنا کٹوانا ڈیزائن بنوانا  جائز نہیں اور ناجائز کام کی اجرت لینا بھی جائز نہیں، نیز  خلاف شریعت امور میں والدین کی بات ماننا بھی جائز نہیں، لہذاسائل کے  والدین کا اس معاملے میں سائل سےناراض ہونا درست نہیں ۔ البتہ سائل اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرتا رہے اور اس معاملہ میں ان کی بات کا دل پر بوجھ نہ لے۔ ساتھ ہی اللہ سے مانگتا بھی رہے، امید ہے اللہ تعالی ان کے دل کو نرم کردے گا۔

ملحوظ  رہے کہ نائی کے پیشہ سے وابستہ ہونا اور جائز امور انجام دینا جائز ہے، اور ان کی اجرت بھی جائز ہے۔

مرقاة المفاتیح میں ہے:

"وعن ابن عمر - رضي الله عنهما - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «خالفوا المشركين: أوفروا اللحى، وأحفوا الشوارب»

(أوفروا) : أي أكثروا ( اللحى ) : بكسر اللام وحكي ضمها وبالقصر جمع لحية بالكسر ما ينبت على الخدين والذقن، ذكره السيوطي، والمعنى اتركوا اللحى كثيرا بحالها ولا تتعرضوا لها واتركوها لتكثر. .... فقالوا: لا يجوز قصها كراهة أن تصير مثله. وأقول: ينبغي أن يدرج في أخذها لتصير مقدار قبضة على ما هو السنة والاعتدال المتعارف، لا أنه يأخذها بالمرة فيكون مثله."

(کتاب اللباس، باب الترجل، ج نمبر 7،ص نمبر  2815، دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفيه: قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت زاد في البزازية وإن بإذن الزوج لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق، ولذا يحرم على الرجل قطع لحيته."

(کتاب الحظر و الاباحہ، ج نمبر 6، ص نمبر 407، ایچ ایم سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء - حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي؛ لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا."

(کتاب الاجارۃ، ج:4،ص:414،دار الفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والقص سنة فيها وهو أن يقبض الرجل لحيته فإن زاد منها على قبضته قطعه كذا ذكر محمد - رحمه الله تعالى - في كتاب الآثار عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - قال وبه نأخذ كذا في محيط السرخسي."

(کتاب الکراہیۃ، ج:5،ص:358،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101469

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں