بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ادارہ اخوت سے قرض لینا


سوال

"اخوت" نامی ایک تنظیم ہے جو لوگوں کو گھر بنانے کے لیے (بقول ان کے) غیر سودی قرضےدیتی ہے اور پھر ماہا نہ ان سے قسطوں میں قرض دی گئی رقم واپس لیتے ہیں۔ مثلا اگر کسی کو بارہ لاکھ روپے قرض دیےہیں تو اب ہر مہینے اس (مقروض)سے دس ہزار  روپے وصول کرتے ہیں ، اسی طرح یہ رقم تقریباً دس سال میں مکمل ہو جاتی ہے۔ اب ان لوگوں کے قرضہ دینے کی دو صورتیں ہوتی ہیں:

1۔ یہ لوگ شروع میں تو نہیں بتاتے لیکن آخری قسط کی وصولی کرتے وقت یہ لوگ مزید ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کرتے ہیں یعنی بارہ لاکھ دے کر آخر میں تیرہ لاکھ روپے وصول کرتے ہیں اور اس عمل کی وضاحت یوں دیتے ہیں کہ آپ نے ہمارےدیے ہوئےپیسوں  سے اپنا گھر تعمیر کیا ہے اور آپ دس سال تک اس میں رہائش پذیر رہے، جب تک آپ (مقروض) نے بارہ لاکھ روپے ہمیں مکمل واپس نہیں کیے اس وقت تک یہ گھر ہماری ملکیت میں تھا، اور یہ ایک لاکھ روپےجو ہم مزید مانگ رہے ہیں یہ ان دس سالوں میں اس گھر میں رہائش کا کرایہ ہے ۔ ( واضح رہے کہ قرضہ دیتے وقت یہ لوگ اس بات کی وضاحت نہیں کرتے کہ آخر میں ہم کر ایہ کے نام پر مزید رقم لیں گے)

2۔  دوسری صورت یہ لوگ بعض اوقات یہ اختیار کرتے ہیں کہ مقروض کو قرضہ دیتے وقت ہی اس کے گھر کا ( جو گھر مقروض بنائے گا) کچھ حصہ اپنے نام (یعنی یہ تنظیم اپنے نام) کرتے ہیں پھر بارہ لاکھ قرض دیتے ہیں اور ہر مہینے قرض کی قسطوں میں وصولی کے ساتھ ساتھ تنظیم نے گھر کا جو حصہ اپنے نام کیا تھا، اس کا کرایہ بھی الگ سے لیتے ہیں ۔ اب دس سال میں ان کو قرض میں  دیے ہوئے  بارہ لاکھ روپے بھی واپس مل جاتے ہیں اور تنظیم  کےنام کیے ہوئے حصے کے کرائے کی مد میں مزید ایک لاکھ روپے بھی تنظیم کو مل جاتے ہیں ،  اور بعد میں یہ لوگ گھر کا جو حصہ اپنے نام کر رکھا  تھا،  وہ مقروض کو "ہبہ " کہہ کر واپس کر دیتے ہیں (واضح رہے کہ اس دوسری صورت میں تنظیم والے یہ بات قرضہ دیتے وقت  ہی مقروض کو بتا دیتے ہیں کہ گھر کا کچھ حصہ ہم اپنے نام کر کے مکمل قرض کی  وصولیابی تک اس کا کرایہ لیتے رہیں گے اور آخر میں یہ حصہ آپ کو "ہبہ" کردیں گے)

اب پوچھنا یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں کا شرعی حکم کیا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے قرض کے معاملہ کا مدار باہمی تعاون پر رکھا ہے، اس کی وجہ سے قرض خواہ قرض دی گئی رقم سے زائد رقم کے مطالبہ کا اختیار نہیں دیا ہے، کسی بھی نام سے اضافی رقم کے مطالبہ کو سود قرار دیا ہے۔ نیز قرض وصول کرنے کے بعد قرض دار رقم کا شرعاً مالک ہوتا ہے، پس اس رقم سے جو کچھ وہ خریدتا ہے، اس کا تنہا مالک قرض دار ہی ہوتا ہے، قرض خواہ کا خریدی گئی چیز پر کوئی استحقاق نہیں ہوتا، ہاں حسب معاہدہ قرض دی گئی رقم کے مطالبہ کا شرعاً حق دار رہتا ہے، پس پہلی صورت میں  قرض رقم دینا اور قسطوں کی صورت میں واپس وصول کرتے ہوئے آخری میں یہ دعوی کرنا کہ قرض دی گئی رقم سے چونکہ آپ نے گھر لیا تھا لہذا قرض کی واپسی تک مذکورہ گھر ہماری ملکیت تھا اس کا کرایہ ہم ایک لاکھ روپے وصول کر رہے ہیں، شرعاً غلط ہے، قرض دی گئی رقم پر اضافی رقم اس نام سے وصول کرنا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہوگا۔

جب کہ دوسری صورت میں قرض دیتے ہوئے قرض دار کو پہلے سے آگاہ کرنا کہ "خریدے گئے گھرمیں سے مخصوص حصہ اپنے نام کریں گے اور قرض کی مکمل ادئیگی تک اس کا کرایہ وصول کریں گے اور قرض کی ادائیگی کے بعد وہ حصہ ہبہ کردیں گے" یہ صورت بچند وجوہ جائز نہیں:

1۔ قرض دی گئی رقم سے خریدے گئے مکان پر قرض خواہ کا ملکیت کا دعوی کرنا، حالانکہ قرض خواہ کا شرعاً کوئی استحقاق نہیں۔

2۔ قرض دی گئی رقم پر اضافی رقم کرایہ کے نام وصول کرنا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔

3۔ قرض کے معاملہ کے ساتھ کرایہ داری اور ہبہ کے دو معاملہ کرنا "صفقۃ فی صفقۃ" ہونے کی وجہ سے از روئے حدیث ممنوع ہے۔

لہذا مذکورہ طریقے کے مطابق قرض لینا جائز نہیں ہے اور اسے غیر سودی قرضہ کا نام دینا بھی شرعاً غلط ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافاً مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (130)

ترجمہ:

"اے ایمان والو سود مت کھاؤ (یعنی مت لو اصل سے) کئی حصے زائد (کرکے) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو امید ہے کہ تم کامیاب ہو۔"

(سورۃ آلِ عمران، آیت نمبر: 130، ترجمہ:بیان القرآن) 

بدائع الصنائع میں ہے:

 "وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال، وهذا جواب ظاهر الرواية."

(كتاب القرض، فصل في حكم القرض، ج: 10، ص: 658، ط: دار الحديث القاهرة)

وفیہ ایضاً:

"(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن قرض جر نفعا ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب"

(كتاب القرض، فصل في حكم القرض، ج: 10، ص: 656، ط: دار الحديث القاهرة)

حدیث شریف میں ہے:

عن أبي هريرة قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة"

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کہ رسول کریم ﷺ نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔

(جامع الترمذي، أبواب البيوع، ‌‌‌باب ‌ما ‌جاء ‌في ‌النهي ‌عن ‌بيعتين ‌في ‌بيعة، ج: 1، ص: 233، ط: قديمي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144709100707

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں