بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دوران اعتكاف عورت کا روزانہ نہانا


سوال

كيا عورت دوران اعتكاف روزانہ نہا سکتی ہے ؟

جواب

مردوں کے لیے اعتکاف کی جو شرعی پابندیاں ہیں، بعینہ وہی پابندیاں خواتین کے لیے بھی ہیں۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں خاتون کے لیے اعتکاف کے دوران غسلِ مسنون (جیسے جمعہ کا غسل) یا محض ٹھنڈک کے لیے نہانے کی اجازت نہیں ہے۔ ایسا کرنے کی صورت میں اعتکاف فاسد ہو جائے گا اور ایک دن کے اعتکاف کی قضاء کرنا  لازم ہوگا۔

البتہ پیشاب کا تقاضا ہو تو پیشاب سے فارغ ہوکر بیت الخلا میں ہی دو چار لوٹے بدن پر ڈال لے، جتنی دیر میں وضو ہوتا ہے اس سے بھی کم وقت میں بدن پر پانی ڈال کر آجائے، لیکن اسے روز کا معمول نہیں بنانا چاہیے، جب سخت ضرورت ہو تو ایسا کیا جاسکتا ہے۔

فتاویٰ عالمگیری (ہندیہ) میں ہے:

"والمرأة ‌تعتكف في مسجد بيتها إذا اعتكفت في مسجد بيتها فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل لا تخرج منه إلا لحاجة الإنسان كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي."

( كتاب الصوم، الباب السابع في الاعتكاف، ج: 1، ص:211، ط: دار الفكر بيروت)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(وحرم عليه) أي على المعتكف اعتكافا واجبا، أما النفل فله الخروج لانه منه له لا مبطل كما مر (الخروج إلا ‌لحاجة ‌الإنسان) طبيعية كبول وغائط وغسل لو احتلم ولا يمكنه الاغتسال في المسجد."

(كتاب الصوم، باب الاعتكاف، ج: 2، ص: 444-445، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101639

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں