بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دانتوں سے داڑھی کے بال کترنے کا حکم


سوال

ایک شخص اپنی بری عادت کی وجہ سے داڑھی کو دانتوں سے کاٹتا ہے، تو کیا یہ شخص گنہگار ہوگا، اس عادت کے چھوڑنے کا کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟

جواب

واضح رہے کہ داڑھی تمام انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی سنت، مسلمانوں کا شعار اور  مرد کی فطری اور طبعی چیزوں میں سے ہے، اور جنابِ رسول اللہ ﷺ نے داڑھی کے رکھنے کا  حکم دیا ہے، اس لیے داڑھی کی تعظیم کرنا فرض ہے اور کم از کم ایک مشت کے بقدر داڑھی رکھنا واجب ہے اور اس کو کترواکریا منڈوا کر ایک مشت سےکم کرنا  ناجائز اور کبیرہ گناہ ہے،اور اس کا مرتکب فاسق اور گناہ گار ہے۔ لہٰذا داڑھی کے بالوں سے کھیلنا یا اسے منہ میں ڈال کر دانتوں سے کترنا بری عادت ہے اور نماز میں داڑھی سے کھیلنا مکروہ ہے۔ اگر کسی شخص نے داڑھی کے بال دانتوں سے کاٹے جس کی وجہ سے اس کے داڑھی کے بال ایک مشت سے کم ہوگئے تو وہ شخص گناہ گار ہوگا، نیز جس شخص کی داڑھی کے بال ایک مشت سے کم ہوں تو اس کے لیے بھی داڑھی کے بال دانتوں سے کترنا گناہ کا باعث ہے۔ اس لیے ایسے شخص کو اپنی اس عادت سے جلد از جلد چھٹکارہ حاصل کرلینا چاہیے، کسی بھی بری عادت کو چھوڑنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اس عادت کو چھوڑنے کا پکا عزم کرلے اور اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرکے اس عادت کے چھوڑنے کی توفیق مانگے اور کوشش کرتا رہے، ہمت نہ ہارے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق شاملِ حال ہونے سے ہر طرح کی بری عادت چھوٹ جاتی ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

" عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: جُزُّوا الشوارب، وأرخوا اللحی، خالِفوا المجوس."

(صحیح مسلم، کتاب الطهارة، باب خصال الفطرة، رقم الحدیث:260، ج:1، ص:129، ط:بیت الأفکار الدولیة)

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے    کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ، مجوسیوں کی مخالفت کرو۔

"البناية شرح الهداية" میں ہے:

"وذكر منها‌‌ العبث في الصلاة، ولأن العبث خارج الصلاة حرام فما ظنك في الصلاة، ولا يقلب الحصى لأنه نوع ‌عبث.

[العبث في الصلاة]

م: (وذكر منها العبث) ش: أي ذكر النبي عليه السلام من الثلاث التي كرهها الله العبث في الصلاة م: (ولأن العبث خارج الصلاة حرام فما ظنك في الصلاة) ش: فيه نظر، فإن عبث في ثيابه أو بلحيته أو بذكره خارج الصلاة يكون تاركا للأولى ولا يحرم ذلك عليه، ولهذا قال في الحديث الذي ذكره: كره لكم ثلاثا وذكر منها العبث في الصلاة، فلم يبلغه درجة التحريم في الصلاة فما ظنك بخارجها."

(كتاب الصلوة،ج:2،ص:436،ط:دار الكتب العلمية)

"فتاوی ہندیہ" میں ہے:

"(الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره) يكره للمصلي أن يعبث ‌بثوبه أو لحيته أو جسده وأن يكف ثوبه بأن يرفع ثوبه من بين يديه أو من خلفه إذا أراد السجود."

(كتاب الصلوة،الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1،ص:105،ط:دار الفكر)

فتاوٰی شامی میں ہے:

"وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم."

(‌‌کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده: ج:2، ص:418، ط: سعید)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101843

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں