
سوال یہ تھا کہ آج کل ہمارے شہر کراچی میں مختلف قسم کی مچھلیاں دکانوں پر مل رہی ہیں، جیسے دندیا مچھلی اور خشکہ مچھلی وغیرہ، لیکن ان مچھلیوں کے منہ میں چھوٹے چھوٹے دانت بھی ہوتے ہیں ۔پوچھنا یہ تھاکہ اس قسم کی مچھلیاں جو ہوٹلوں میں اور بازاروں میں فروخت ہورہی ہیں ان کا کیا حکم ہے، کیا یہ حلال ہیں ؟ یہ سوال میں اس لئے کر رہاہوں کیونکہ میرے دادا ابو نے کہا کہ دانت والی مچھلی فقہ حنفی میں حرام ہے، کیا یہ بات ٹھیک ہے؟
مچھلیوں کے بارے میں اصول یہ ہے کہ جو چیز مچھلی کہلاتی ہے وہ حلال ہے۔ یعنی صرف وہ آبی جانور حلال ہیں جنہیں عرف میں اور ماہرین کے ہاں “مچھلی” کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تمام سمندری جاندار مثلاً کیکڑا وغیرہ فقہِ حنفی میں حرام ہیں۔ سوال میں مذکورہ دانت والی یا بغیر دانت والی مچھلی ، اگر وہ حقیقت میں مچھلی کی ہی قسم ہیں، پانی میں ہی زندہ رہتی ہیں اور عام طور پر “مچھلی” کہلائی جاتی ہیں تو وہ بالکل حلال ہیں، چاہے ان کے دانت ہوں یا نہ ہوں۔
مبسوطِ سرخسی میں ہے:
"والسمك مأكول بجميع أنواعه يثبت الحل فيه بالكتاب والسنة قال الله تعالى: {أحل لكم صيد البحر} [المائدة: 96] وقال - صلى الله عليه وسلم -: «أحلت لنا ميتتان ودمان أما الميتتان فالسمك والجراد، وأما الدمان فالكبد والطحال»."
(كتاب الصيد، ذكاة السمك والجراد، ج:11، ص:230، ط: دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100831
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن