بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 محرم 1448ھ 13 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

داماد کو زکاۃ دینے کا حکم


سوال

کیا داماد کو زکاۃ دی جا سکتی ہے؟  بجلی کا کرنٹ لگنے کی وجہ سے اس کا ایک ہاتھ معذور ہو گیا تھا۔

جواب

صورت مسئولہ میں داماد کو زکاۃ دینا شرعاً جائز ہے ، بشرطیکہ وہ صاحبِ نصاب نہ ہو،  ہاشمی  نہ ہو اور زکاۃ کا مستحق  ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويجوز دفعها لزوجة أبيه وابنه وزوج ابنته تتارخانية."

( كتاب الزكاة،باب مصرف الزكاة والعشر،ج: 2 ،ص:345، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101342

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں