بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مرد کا امراض نسواں کا ماہر بننے کا حکم


سوال

ایک مسلمان مرد کے لیے امراض نسواں کا ماہر (Gynaecologist) بننا شرعا کیسا ہے؟ جب کہ ولادت و غیرہ کی مشق کے وقت اسے یقینی طور پر اجنبیہ عورت کے واجب الستر حصوں کو دیکھنے اور چھونے کی نوبت آتی ہے۔

جواب

مسلمانوں کے معاشرے میں امراض نسواں کا ماہر   کسی مسلمان لیڈی ڈاکٹر کا ہونا چاہئے ، جس سے خواتین علاج کرواسکیں،البتہ اگر  امراض  نسواں کی ماہر لیڈی ڈاکٹر   موجود نہ ہو ، یا موجود تو ہو لیکن اس  کو مہارت حاصل  نہ ہو،مثلاً : آپریشن وغیرہ میں مہارت نہ ہو ،اور مریض کی ہلاکت کا خطرہ ہو ،اورامراض نسواں کا ڈاکٹر پہلے سے موجود ہو ،  تو اس صورت میں   مرد ڈاکٹر سے علاج کرانے کی شرعا گنجائش ہے ، نیز  کسی معالج کے لیے  ضرورت اور عذر کی وجہ سے اجنبیہ عورت  کے واجب الستر  حصوں کو  دیکھنے اور چھونے  کی نوبت اگر آجائے، توبقدر  ضرورت  صرف متاثرہ جگہ کو دیکھنے اور چھونے کی    شریعت نے اجازت دی ہے ۔البتہ  اگر لیڈی ڈاکٹر موجود ہو،تو شروع ہی سے کسی مرد کو امراض نسواں کا ماہر بننا درست نہیں ہے ، بلکہ اس شعبے میں موجود خواتین کو ان امراض کے علاج معالجہ کا طریقہ سیکھنے کی طرف راغب کیا جائے۔

المحيط البرهاني میں ہے :

"وإذا أصابت المرأة قرحة في موضع لا يحل للرجل أن ينظر إليه، علم امرأة دواءها لتداويها؛ لأن نظر الجنس إلى الجنس أخف وكذا في امرأة العنين تنظر إليها النساء، فإن قلن: هي بكر (88أ2) فرق القاضي بينهما، وكذا لو اشترى جارية على أنها بكر، فقبضها فقال: وجدتها ثيباً؛ تنظر إليها النساء للحاجة إلى فصل الخصومة، وإن لم يجدوا امرأة تداوي تلك القرحة، ولم يقدروا على امرأة تعلم ذلك، وخافوا أنها تهلك، أو يصيبها بلاء أو وجع، فلا بأس بأن يستر منها كل شيء إلا موضع تلك القرحة، ثم يداويها رجل، ويغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع؛ لأن نظر الجنس إلى غير الجنس أغلظ، فيعتبر فيه تحقق الضرورة، وذلك عند خوف الهلاك، وذوات المحارم والأجنبيات في هذا على السواء؛ لأن النظر إلى العورة لا يحل بسبب المحرمية."

(كتاب الاستحسان والكراهيه،الفصل التاسع فيما يحل للرجل النظر إليه، وما لا يحل، ،ج:5،ص: 338، ط: دار الكتب العلميةبيروت )

فتاویٰ ہندیہ میں ہے :

"امرأة أصابتها قرحة في موضع لا يحل للرجل أن ينظر إليه لا يحل أن ينظر إليها لكن تعلم امرأة تداويها، فإن لم يجدوا امرأة تداويها، ولا امرأة تتعلم ذلك إذا علمت وخيف عليها البلاء أو الوجع أو الهلاك، فإنه يستر منها كل شيء إلا موضع تلك القرحة، ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع، ولا فرق في هذا بين ذوات المحارم وغيرهن؛ لأن النظر إلى العورة لا يحل بسبب المحرمية، كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الكراهيه، الباب الثامن فيما يحل للرجل النظر إليه وما لا يحل له،ج:5، ص: 330 ،ط: رشيديه ) 

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر میں ہے :

"(ولا يختنه رجل ولا امرأة) تحرزا عن النظر إلى الفرج لاحتمال أنه رجل وامرأة ولكن تقدم أنه يجوز للطبيب والجراح النظر إلى موضع النظر للضرورة والظاهر أن النظر إلى موضع الختان من هذا القبيل."

(كتاب الخنثي، ج: 2، ص: 720، ط: دار إحياء التراث العربي بيروت)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101323

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں