بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دف بجانے کا شرعی حکم


سوال

دف کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ دف بجانے سے مقصود نکاح کا اعلان و تشہیر کرنا ہوتی ہے، تاکہ لوگوں کو اس کی اطلاع ہوجائے،لہذا نکاح وغیرہ کے موقع پر دف بجانا شرعا جائز ہے،بشرط یہ ہے کہ  ایسا دف ہو جو بالکل سادہ اور تھال نما ہو، جس میں "گھنگھرو“"(چھن چھن کرنے والے آلات) لگے ہوئے نہ ہوں،لہذا ہمارے معاشرے میں جو چیز دف کے نام سے ہے، جس میں اسٹیل کی چھوٹی چھوٹی پلیٹیں لگی ہوئی ہوتی ہیں، جس سے ایک خاص قسم کے ساز کی آواز پیدا ہوتی ہے، اس کے استعمال کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔نیز کسی خاص گانے کے انداز میں پیشہ ور لوگوں کی طرح نہ بجایا جائے اور موسیقی کے قواعد کے مطابق نہ بجایا جائے، تاکہ اس سے کیف ومستی پیدا نہ ہو۔اور دف بجانے والی اگر بچیاں ہوں، تو وہ  نابالغ چھوٹی بچیاں ہوں  اور وہ پیشہ ورانہ طور پرگانے والی نہ ہوں۔ لہذا مذکورہ شرعی پابندیوں کا  خیال رکھتے ہوئے نکاح ودیگر خوشی کے موقع پر دف بجانے کی شرعا اجازت ہے۔

مرقاة المفاتيح میں ہے:

"قال الأشرف: فيه دليل على أن السماع وضرب الدف غير محظور لكن في بعض الأحيان. أما الإدمان عليه فمكروه، ومسقط للعدالة، ماح للمروءة. قال ابن الملك: في الحديث دليل على أن ضرب الدف جائز إذا لم يكن له جلاجل، وفي بعض الأحيان، وأن إنشاد الشعر الذي ليس بهجو ولا سب جائز."

(كتاب الصلاة، باب صلاة العيدين، ج3، ص1065، ط: دار الفكر بيروت)

و فیہ ایضاً:

"عن الربيع بنت معوذ ابن عفراء قالت: «جاء النبي - صلى الله عليه وسلم - فدخل حين بني علي فجلس على فراشي كمجلسك مني فجعلت جويريات لنا يضربن بالدف ويندبن من قتل من آبائي يوم بدر إذ قالت إحداهن: وفينا نبي يعلم ما في غد فقال: دعي هذه وقولي بالذي كنت تقولين» . رواه البخاري..... وفيه دليل على جواز ضرب الدف عند النكاح والزفاف للإعلان وألحق بعضهم الختان والعيدين والقدوم من السفر ومجتمع الأحباب للسرور وقال: المراد به الدف الذي كان في زمن المتقدمين وأما ما عليه الجلاجل فينبغي أن يكون مكروها بالاتفاق."

(كتاب النكاح، باب إعلان النكاح والخطبة والشرط، ج5، ص2065، ط: دار الفكر بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"وعن الحسن لا بأس بالدف في العرس ليشتهر. وفي السراجية هذا إذا ‌لم ‌يكن ‌له ‌جلاجل ولم يضرب على هيئة التطرب اهـ."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة، ج6، ص350، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100845

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں