
میرے دادا کا انتقال 2003ء میں ہوا۔ دادا کے ترکہ میں ایک دکان تھی جس پر میرے والد بیٹھتے تھے۔ 2017ء میں والد کا انتقال ہوگیا۔ والد کے انتقال کے بعد وہ دکان کرایہ پر دے دی گئی ہے اور اس کا کرایہ مشترکہ خاندانی اخراجات میں استعمال ہوتا ہے،میرے دادا کے کل 6 بیٹے اور 5 بیٹیاں تھیں۔ ان میں سے اس وقت 2 بیٹے اور 5 بیٹیاں زندہ ہیں۔ موجودہ زندہ ورثاء کا کہنا ہے کہ جو بیٹے فوت ہوگئے ہیں، ان کا دادا کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں بنتا۔
سوال یہ ہے:کہ کیا میرے داد ا کی میراث سے میرے والد کا حصہ نہیں تھا؟جو ان کے انتقال کے بعد اب ہمیں ملے گا۔
صورتِ مسئولہ میں ذکرکردہ تفصیل اگر واقعۃً درست ہو تو سائل کے دادا کی میراث میں ان کے جو بیٹے ان کی وفات کے بعد فوت ہوئے ہیں ان کا بھی حصہ ہوگا،اور ان کا حصہ ان کے ورثاء میں شرعی حصص کے تناسب سے تقسیم ہوگا۔
موجودہ زندہ ورثاء کا یہ کہنا ہے کہ جو بیٹے دادا کے انتقال کے بعد فوت ہوگئے ہیں، ان کا دادا کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ،درست نہیں ۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه."
(کتاب الوصایا، ج:2، ص:926، ط:المکتب الاسلامی)
تكملة رد المحتار میں ہے:
"الارث جبري لا يسقط بالاسقاط."
(كتاب الدعوى، باب التحالف، ج:8، ص:116، ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100629
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن