بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1448ھ 21 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

داڑھی کی لمبائی اور اطراف کے بالوں کا حکم


سوال

داڑھی ٹھوڑی کے نیچے ایک مشت رکھنا واجب ہے یا دونوں سائیڈوں سے بھی رکھنا واجب ہے؟ مطلب کانوں کے نیچے سے بھی رکھنا ضروری ہے؟

جواب

 واضح رہے داڑھی کانوں کے پاس سے، جہاں سے جبڑے کی ہڈی شروع ہوتی ہے، وہاں سے لے کر پورے جبڑے پر اگنے والے بالوں کو کہتے ہیں۔

اس پوری حد میں موجود بالوں کو تینوں طرف (یعنی دونوں گالوں اور ٹھوڑی) سے ایک مٹھی (ایک مشت) لمبا رکھنا ضروری ہے،صرف ٹھوڑی کے نیچے کے بالوں کا ایک مٹھی ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ ہر جانب سے داڑھی رکھنا اور   اس کو ایک مٹھی ہونے تک چھوڑے رکھنا  لازمی ہے۔

مشكاة المصابيح ميں هے:

"وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يأخذ من لحيته من عرضها وطولها." رواه الترمذي.

ترجمہ:”حضرت عمرو بن شعیب نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے کہ بیشک جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اپنی ڈاڑھی کے طول و عرض میں سے لیتے تھے ۔“یہ ترمذی کی روایت ہے۔

(كتاب اللباس ،باب الترجل،الفصل الثاني،ج: 2،ص: 1263،ط: المكتب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: جميع اللحية) بكسر اللام وفتحها نهر، وظاهر كلامهم أن المراد بها الشعر النابت على الخدين من عذار وعارض والذقن."

"وفي شرح الإرشاد: اللحية الشعر النابت بمجتمع الخدين والعارض ما بينهما وبين العذار وهو القدر المحاذي للأذن، يتصل من الأعلى بالصدغ ومن الأسفل بالعارض بحر."

(كتاب الطهارة،أركان الوضوء،ج: 1،ص: 100،ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100244

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں