بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

داڑھی کاٹنے والے امام کے پیچھے نماز ادا کرنے کا حکم


سوال

اگرامام  داڑھی کاٹتا ہے تو اس کے پیچھے وقتی نماز ،جمعہ کی نماز،اورتراویح  کے پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر امام داڑھی منڈاتا ہو یا ایک مشت سے کم رکھتا ہو تو یہ عمل ناجائز،گناہِ کبیرہ اورموجبَ فسق ہے، اس لیے ایسے شخص کو امامت کے لیے آگے کرنا مکروہ تحریمی ہے۔کسی باشرع اور داڑھی رکھنے والے شخص کو امام مقرر كرنا ياامامت کے لیے آگے کرنا چاہیے۔ورنہ ایسے  شخص کو امام بنانے والے سب گناه گار هوں گے۔

البتہ اگرکسی جگہ مستقل امام ہی ایسا ہو یا کسی دوسرے شخص(متدین اور داڑھی والے )کو امامت کے لیے آگے کرنا ممکن نہ ہو، تو ایسے امام کی اقتدا كرنےسےنماز کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی۔ اس ليے اگر قریب میں کوئی دوسری ایسی مسجد موجود نہ ہو جہاں باشرع امام میسر ہو تو مسجد اور جماعت کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے اسی امام کی اقتدا میں نماز پڑھ لیناانفرادی نماز پڑھنے سےبہتر ہے۔

باقی اگر کسی امام کے بارے میں یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ وہ داڑھی منڈاتا ہے،بلکہ محض گمان ہو،تو  جب تک اس بات کا یقین نہ ہو، اس کے پیچھے نماز ادا کی جا سکتی ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے: 

"وفي النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة.
(قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع."

(‌‌باب الإمامة، ج:1، ص: 562، ط:سعید)

وفيه ايضا:

"وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم فتح."

(‌‌كتاب الصوم، ‌‌باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2، ص: 418، ط: سعيد)

حلبی کبیر   میں ہے:

"و لو قدّموا فاسقاً يأثمون بناء علي أن كراهة تقديمه كراهة تحريم ؛لعدم اعتنائه بأمور دينه، و تساهله في الإتيان بلوازمه."

(كتاب الصلوة، فصل في الامامة، ص:513، ط:سهيل اكيدمي)

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

"كره إمامة "الفاسق" العالم لعدم اهتمامه بالدين فتجب إهانته شرعا فلا يعظم بتقديمه للإمامة وإذا تعذر منعه ينتقل عنه إلى غير مسجده للجمعة وغيرها وإن لم يقم الجمعة إلا هو تصلى معه."

(كتاب الصلوة، باب الامامة،‌‌ فصل في بيان الأحق بالإمامة، ص:302، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101767

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں