بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سائبر ویب سائٹ کے ذریعے پیسے کمانے کا حکم


سوال

میں ایک ہنر سیکھ رہا ہوں جو کمپیوٹر سے متعلق ہے، جس کا نام سائبر سیکیورٹی ہے، اور میں اس کے ذریعے پیسے کمانا چاہتا ہوں،  یہ کام کسی ملکی یا غیر ملکی کمپنی کے اندر ہو سکتا ہے یا آن لائن کسی ایسی ویب سائٹ کے ذریعے جو اسرائیلی نہ ہو۔ اس کام کے بدلے جو پیسے مجھے ملیں گے وہ ڈالر میں ہوں گے یا کسی اور ملک کی کرنسی میں۔

اب میں اس الجھن میں ہوں کہ آیا یہ سب کچھ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ کیا اس طریقے سے پیسے کمانا حلال ہے یا نہیں؟

اس حوالے سے میری راہ نمائی فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ سائبر سیکیورٹی کا ہنر سیکھنا اور اس کے ذریعے روزگار حاصل کرنا فی نفسہ جائز ہے، کیوں کہ سائبر سیکیورٹی کا تعلق کمپیوٹر سسٹمز، نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل معلومات کو غیر قانونی رسائی، چوری اور نقصان سے محفوظ رکھنے سے ہے، اور شریعتِ مطہرہ میں مال اور امانت کی حفاظت ایک مشروع اور محمود عمل ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کسی ملکی یا غیر ملکی کمپنی میں، یا آن لائن کسی ایسی ویب سائٹ کے ذریعے (جو اسرائیلی نہ ہو)، جائز اور قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے سسٹمز کی حفاظت، سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی اور ڈیٹا پروٹیکشن جیسے امور انجام دے، اور اس کے بدلے اجرت حاصل کرے تو ایسی اجرت حلال ہے۔ نیز اجرت کا ڈالر یا کسی اور غیر ملکی کرنسی میں ہونا بھی شرعاً جائز ہے، کیوں کہ کرنسی کی نوعیت سے حلت و حرمت پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔

البتہ اگر سائبر سیکیورٹی کے نام پربغیر اجازت ہیکنگ، لوگوں کا ڈیٹا چرانا، فراڈ، نقصان یا کسی ناجائز عمل میں تعاون کیا جائے  تو یہ اعمال ناجائز اور حرام ہوں گے،  اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہوگی۔

خلاصہ یہ ہے کہ:
سائبر سیکیورٹی کا جائز اور قانونی دائرہ میں رہ کر کیا گیا کام اور اس کے ذریعے حاصل کی گئی کمائی حلال ہے، جب کہ ناجائز اور غیر قانونی استعمال کی صورت میں وہ کمائی حرام ہوگی۔

   فتاوی شامی میں ہے:

"(و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية.

(قوله ممن يعلم) فيه إشارة إلى أنه لو لم يعلم لم يكره بلا خلاف قهستاني."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة، ‌‌فصل في البيع، ج: 6، ص: 391، ط: سعيد)

جواہر الفقہ میں ہے:

"ثم السبب ‌إن ‌كان ‌سببا ‌محركا وداعيا إلى المعصية، فالتسبب فيه حرام، كالإعانة على المعصية بنص القرآن كقوله تعالى: {ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله}، وقوله تعالى: {فلا تخضعن بالقول}، وقوله تعالى: {ولا تبرجن}، الآية. وإن لم يكن محركا وداعيا، بل موصلا محضا، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل، كبيع السلاح من أهل الفتنة، وبيع العصير ممن يتخذه خمرا، وبيع الأمرد ممن يعصي به، وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر، أو يتخذها كنيسة أو بيت نار وأمثالها، فكله مكروه تحريما، بشرط أن يعلم به البائع والآجر من دون تصريح به باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذورا، وإن علم كان داخلا في الإعانة المحرمة.

وإن كان سببا بعيدا، بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالته الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه، كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها، فتكره تنزيها)."

(تفصيل الكلام في مسئلة الإعانة على الحرام، ج:2، ص:439 إلى 453، ط: مكتبة دارالعلوم)

تفسیرِ کبیر میں ہے:

"يا أيها الذين آمنوا ‌لا ‌تأكلوا ‌أموالكم بينكم بالباطل... وفي الآية مسائل: ... المسألة الثانية: ذكروا في تفسير الباطل وجهين: الأول: أنه اسم لكل ما لا يحل في الشرع، كالربا والغصب والسرقة والخيانة وشهادة الزور وأخذ المال باليمين الكاذبة وجحد الحق... والثاني: ما روي عن ابن عباس والحسن رضي الله عنهم: أن الباطل هو كل/ ما يؤخذ من الإنسان بغير عوض."

(تتمة سورة النساء، ج: 10، ص: 56، ط: دار إحياء التراث العربي)

تبیین الحقائق میں ہے:

"لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجر... وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه."

(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج: 5، ص: 125، ط: دار الكتاب الإسلامي)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقوله تعالى: {وتعاونوا على البر والتقوى} يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى."

(سورة المائدة، ج: 2، ص: 381، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144707102235

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں