بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کسٹمر کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے اپنے بینک میں رقم ٹرانسفر کرکے رقم دینے پر کمیشن لینے کا حکم


سوال

اگر ایک شخص ایزی پیسہ کا کاروبار کرتا ہو اور اس کا طریقہ کار یہ ہو کہ وہ کسی شخص کی رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردے اور پھر بینک سے چیک کے ذریعے نکالے، لیکن متعلقہ شخص سے اس کے چارجز لےتو کیا یہ کاروبار شرعاً صحیح ہے؟ اسی طرح 50 ہزار روپے کسی شخص سے اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر لے اور اس سے پر ہزار 10 روپے لے لے اور پھر چیک کے ذریعے وہ پیسے نکال لے تو کیا یہ طریقہ کار دونوں کے حق میں صحیح ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں  پہلی صورت میں کہ  دکاندار کا کسٹمر  کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرکے نقد رقم دینے میں کوئی ایسی خدمت نہیں پائی جاتی ،جس کے عوض شرعی طور پر اس  کے لیے اجرت لینے کا جواز بنتا ہو،لہذا اس صورت میں اس کے لیے  اس کام کے عوض  اجرت لینا درست نہیں ہے ،البتہ اگر صورت یہ ہو کہ مذکورہ شخص کسٹمر کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے رقم کو اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرے ،پھر خود یااپنے نمائندے کے ذریعہ بینک جاکروہاں  سے وہ رقم وصول کرکے گاہک کواد ا کرے ،یعنی اس کے لیے باقاعدہ عمل (محنت ) پائی جائے ،تو اس صورت میں آنے جانے کے عوض اجرت وصول کرنا مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ  شرعاً درست ہے :

1.اس کام کی  پہلے سے  طے شدہ رقم   مقرر کرلی جائے،  فی صد کے  اعتبار سے یا مبہم طے نہ کیا جائے۔

2. جس قدر پیسےایزی پیسہ سے  اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے ہیں ، وہ اس کے حوالہ کردیے جائیں اور اجرت الگ سے لی جائے، ان ہی آئے ہوئے پیسوں میں سے اجرت کاٹ کر بقایا رقم  حوالہ نہ کی جائے۔

اور دوسری صورت   کہ رقم اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کے بعد دکاندار   کسٹمر کو اپنی طرف سے نقد رقم دے اور دکاندار  ہزار روپے پر  10 روپے وصول کرے  اور اس کے  بعد  دکاندار  بینک سے چیک کے ذریعہ رقم نکالے تو یہ صورت شرعاً جائز نہیں ہے ،اس لیے کہ   اس میں کوئی ایسی خدمت نہیں پائی جارہی جس کے عوض اجرت لینا شرعاً جائز ہو ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والأجرة إنما تكون في مقابلة العمل".

(كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:156، ط: سعيد)

وفیه أیضاً:

"ولا ‌يستحق المشترك الأجر حتى يعمل كالقصار ونحوه"

"(قوله حتى يعمل) ؛ لأن الإجارة عقد معاوضة فتقتضي المساواة بينهما، فما لم يسلم المعقود عليه للمستأجر لا يسلم له العوض والمعقود عليه هو العمل أو أثره على ما بينا فلا بد من العمل زيلعي".

(كتاب الإجارة، ‌‌‌‌باب ضمان الأجير، ج:6، ص:64، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100716

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں