
ہم دھاگے کا امپورٹ کرتے ہیں، ایک قسم کا مال مثلاً "سفید دھاگا" اس کی قیمت چین میں مثلاً 100 روپے ہے، پاکستان کسٹم میں اس کی ڈیوٹی مثلاً 15 روپے ہے، اور ایک قسم کا مال مثلاً: "کالا دھاگا" اس کی قیمت چین میں مثلاً 100 روپے ہی ہے مگر پاکستان کسٹم میں اس کی ڈیوٹی مثلاً 20 روپے ہے۔ اب اگر ہم مکمل ڈیوٹی ادا کرتے ہیں تو ہمیں کالا دھاگا 120 روپے کا پڑتا ہے مگر وہ یہاں مارکیٹ میں 115 کا بِک رہا ہوتا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہوتی ہے کہ لوگ کالا دھاگا کو کسٹم میں سفید دھاگا شو کرتے ہیں، تو وہ ان کو 115 کا پڑتا ہے، اب وہ اسے 115 کا بیچ سکتے ہیں۔
اب اگر ہم یہ کر لیں کہ مثلاً 100 ڈبے سفید دھاگے کے اور 100 ڈبے کالے دھاگے کے منگوا لیں اور کسٹم میں یہ بتائیں کہ 150 ڈبے سفید دھاگے کے ہیں اور 50 ڈبے کالے دھاگے کے ہیں تو کیا یہ جائز ہے؟
اسی طرح ہمیں ڈیوٹی میں بچت ہو جائے گی تو ہم بھی مارکیٹ میں وہ مال بیچ سکیں گے، ورنہ ہم کام نہیں کر سکیں گے کیونکہ مارکیٹ میں سستا بِک رہا ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ جھوٹ بولنا اور دھوکا دینا چاہے کاروباری معاملات میں ہو یا کسی اور معاملے میں شرعاً ناجائز اور سخت گناہ ہے۔ صورتِ مسئولہ میں سائل کا کالے دھاگے خرید کر کسٹم ڈیوٹی کم کرانے کی غرض سے انہیں سفید دھاگے کہنا جھوٹ اور دھوکے کے زمرے میں آتا ہے، جو شریعت کے مطابق بالکل ناجائز ہے۔ البتہ اس طریقہ کار سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام نہیں کہلائی جائے گی، البتہ اگر سفید دھاگے کی مقدار زیادہ ہے اور کالے دھاگے کی مقدار کم ہے تو سفید دھاگہ زیادہ اور کالا دھاگہ کم کہنا درست ہو گا، لیکن غلط عدد کے ساتھ متعین کر کے بتانا درست نہیں ہو گا۔
سنن الترمذی میں ہے :
"عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «عليكم بالصدق فإن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا، وإياكم والكذب فإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وما يزال العبد يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا.»"
(أبواب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في الصدق والكذب، 348/4، ط: مطبعة عيسى البابي الحلبي)
ترجمہ:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ:سچ بولنےکولازم پکڑو،پس بےشک سچ (انسان کو) نیکی کی طرف لے جاتاہے،اور نیکی (انسان کو)جنت کی طرف لےجاتی ہے،اور آدمی برابر سچ بولتاہے،اور سچ بولنے کی کوشش کرتاہےیہاں تک کہ وہ اللہ تعالٰی کے ہاں سچا لکھ دیاجاتاہے،اور جھوٹ سے بچو،پس بے شک جھوٹ (انسان کو) گناہ کی طرف لےجاتاہے ،اور گناہ (انسان کو) جہنم کی طرف لے جاتاہے،اوربندہ برابر جھوٹ بولتاہے اورجھوٹ بولنے کی کوشش میں لگارہتاہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالٰی کے ہاں جھوٹالکھ دیاجاتاہے"۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا."
(کتاب الإیمان، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم: «من غشنا فليس منا، ج: 1، ص: 99، ط: مطبعة عيسى البابي الحلبي)
ترجمہ :" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ :جس نے ہم پر اسلحہ اٹھایاوہ ہم میں سے نہیں ہے ،اور جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے"۔
فتویٰ نمبر : 144705101675
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن