بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کسٹم کلئیرنگ ایجنٹ اور اس کام میں رشوت کے لین دین کا حکم / ٹیکس کی شرعی حیثیت


سوال

 میں کراچی پورٹ میں ایک کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہوں۔ فی الحال میں ملازمت کرتا ہوں اور مستقبل میں ذاتی کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ میں یہاں کام کے حوالے سے کچھ تفصیل آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں جس کے بعد قرآن وحدیث کی روشنی میں میں آپ حضرات کے جواب کا منتظر ہوں۔ بنیادی طور پر ہمارا کا م باہر ممالک سے آنے والے سامان (جو کہ گھریلو یا تجارتی بھی ہو سکتا ہے) کو پاکستان کسٹم اور دیگر ٹیکس لگانے والے اداروں (ایف۔ بی۔ آر) سے کلیئر کروانا ہوتا ہے۔ ہم اس سامان کے مالک نہیں ہوتے صرف کسی مسافر (جو کہ کوئی پاکستانی یا غیر ملکی ہو سکتا ہے) کے سامان کو کسٹم حکام سے کلیئر کروا کے دیتے ہیں۔ جس کی اجرت ہم سامان کے حساب سے طے کر لیتے ہیں۔ پورٹ پر کسٹم حکام سامان کو (خواہ وہ کنٹینرز میں بند ہو یا کھلا ہو) کھول کر چیک (Exam) کرتے ہیں اور اس کے حساب سے ایک رپورٹ اگلے مرحلے کے لیے بھیجی جاتی ہے۔ اس کے بعد اسیسمنٹ ڈیپارٹمنٹ بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق ( جس میں رپورٹ اور سامان کی تصاویر بھی شامل ہوتی ہیں) کسٹم ڈیوٹی/ ٹیکس لگاتے ہیں ۔ یہ ٹیکس ہر سامان پر الگ تناسب سے پاکستان کسٹم قانون کے مطابق لگائے جاتے ہیں ۔ یہ اس کام کا ایک خاکہ ہے اب اس میں کچھ چیزوں کے سوالات کے جوابات درکار ہونگے ۔ اگر کنٹینرز میں موجود پورے سامان پر ڈیوٹی ٹیکس لگائے جائیں تو ایک اندازے کے مطابق ایک کنٹینر کے ڈیوٹی ٹیکس تقریباً تیس سے چالیس لاکھ روپے تک بن سکتے ہیں جو کہ ایک عام مسافر کے سامان کے لیے ہے ۔ حکومت اور قانون کے حساب سے اگر کوئی مسافر بارہ سو ڈالر1200$ کی مالیت کا سامان لاتا ہے جو کہ پاکستانی تقریباً تین لاکھ چالیس ہزار روپے 340,000 بنتے ہیں ،تو اس پر کوئی بھی ٹیکس نہیں ہے۔ مذکورہ مالیت سے زائد کے سامان پر کسٹم قانون کے مطابق ڈیوٹی ٹیکسز لگائے جائیں گے۔ اتنی زیادہ ڈیوٹی ٹیکس سے بچنے کے لیے پورٹ پر رشوت کا لین دین ایک مجبوری بن چکی ہے جو کہ ہزاروں سے لاکھوں تک ہوتی ہے۔ ہر چھوٹے سے لے کر بڑے افسر کو رشوت دینا پڑتی ہے۔ یعنی ہر مرحلے میں رشوت دینا لازمی ہے وگرنہ ہمارے سامان کو یا تو کلیئر کرنے سے روکا جائےگا اور مختلف قسم کے قانونی مسئلے مسائل بنائے جائیں گے  یا پھر سامان کو کلئیر کرنے میں وقت اتنا لگا دیا جائے گا کہ جس کے اخراجات پورے کرنا محال ہوتا ہے۔ لہذایہ رشوت دینا لازم ہوتا ہےاور اس رشوت کے بدلے میں متعلقہ افسر ( بھلے وہ کاغذات کی توثیق کرنے والا ہو، جانچ (Exam) کرنے والا ہو، ڈیوٹی لگانے والا ہو، کلئیرنس دینے والا ہو) اپنے کام کے حساب سے ایجنٹ کو فائدہ دیتا ہے۔ اس وقت مسافر کے سامان کا کنٹینرز تقریباً دو لاکھ سے چھ لاکھ روپے تک ڈیوٹی میں کلئیر ہو رہا ہے جو کہ حکومت کو ادا کر کے کنٹینر کلئیر کیے جاتے ہیں۔ یہ سب اسی وجہ سے ممکن ہے کہ ہر مرحلے میں کسٹم حکام یا دیگر لوگ اس رشوت کے عوض رپورٹ کم بناتے ہیں یا چیزوں پر ٹیکس کم لگاتے ہیں ۔ کلئیرنس کے اس پورے مرحلے میں کلیئرنگ ایجنٹس سامان کی جانچ کے وقت اپنی مرضی کی لیبر بھیج کر زیادہ ڈیوٹی ٹیکس والا سامان چھپا دیتے ہیں تاکہ جانچ کرنے والے افسر کو نظر ہی نا آئے ،جس کے عوض کسٹم ایجنٹس ، مزدوروں کو متعلقہ سامان کے حساب سے مزدوری کے علاوہ صرف سامان چھپانے کے الگ سے پیسے دیتے ہیں ۔ کسی بھی غیر قانونی یا ممنوع چیز کو کلیئر کروانے کے لیے بھی الگ سے رشوت دی جاتی ہے (مثال کے طور پر کھانے پینے کی تمام اشیاء ممنوع ہیں اگرچہ وہ عجوہ کھجور ہی کیوں نہ ہو) ۔ میں نے ایک عزیز سے بات کی ،جو کہ خود یہی کام کرتے ہیں اور دیندار بھی ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ اسلام میں درآمدات و برآمدات پر ٹیکس لگانے کا کوئی نظام نہیں ہے۔ لہذا یہ ایک غیر شرعی نظام ہے اور اس میں کم سے کم ٹیکس لگوانے کے لیے اگر رشوت دینی پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ اب کچھ سوالات جن کے جوابات درکار ہیں:

1۔ کیا درآمدات و برآمدات پر ٹیکس لگانا غیر شرعی عمل ہے ؟

2۔ اس کام میں رشوت دینا کیسا ہے؟ جو کہ کام کرنے کے لیے لازم ہے؟نیز  لیبر کے ذریعے سے پیسے دے کر ٹیکس سے بچنے کے لیے سامان چھپانا کیسا ہے ؟ 

3۔ کیاکلیئرنگ ایجنٹ کا کام کرنا ٹھیک ہے ؟

جواب

1۔ کسی بھی مملکت اور ریاست کو ملکی انتظامی امور چلانے کے لیے،مستحقین کی امداد ،سڑکوں،پلوں اور تعلیمی اداروں کی تعمیر،بڑی نہروں کا انتظام،سرحد کی حفاظت کا انتظام ،فوجیوں اور سرکاری ملازمین کو مشاہرہ دینے کے لیےاور دیگر ہمہ جہت جائز اخراجات کو پورا کرنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہوتی ہےاوران وسائل کو پورا کرنے کے لیےنبی کریمﷺ،خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مبارک عہداور ان کے بعد کے روشن دور میں بیت المال کا ایک مربوط نظام قائم تھااور اس میں مختلف قسم کے اموال جمع کیے جاتے تھے۔

لیکن آج کے دور میں جب کہ یہ اسباب و وسائل  ناپید ہوگئے ہیں توان ضروریات اور اخراجات کو پورا کرنے کے لیےٹیکس کا نظام قائم کیا گیا، کیوں کہ اگر حکومت ٹیکس نہ لے تو فلاحی مملکت کا سارا نظام خطرہ میں پڑ جائے گا۔البتہ اس میں شک نہیں کہ مروجہ ٹیکس کے نظام میں کئی خرابیاں ہیں ،سب سے اہم یہ ہے کہ ٹیکس کی شرح بعض مرتبہ نامنصفانہ بلکہ ظالمانہ ہوتی ہےاور یہ کہ وصولی کے بعدبے جا اسراف اور غیر مصرف میں ٹیکس کو خرچ کیا جاتا ہے،لیکن بہرحال ٹیکس کے بہت سے جائز مصارف بھی ہیں ،  اس لیے امورِ مملکت کو چلانے کی خاطر حکومت کے لیے بقدرِ ضرورت اور رعایا کی حیثیت کو مدِّ نظر رکھ کر ٹیکس لینے کی گنجائش نکلتی ہے۔لہٰذا اگر ٹیکس عدل و ضرورت کے مطابق لیا جائے اور عوامی مفاد میں خرچ کیا جائے تو یہ شرعاً جائز ہے۔

2۔صورتِ مسئولہ میں افسران کو اس غرض سے رقم دیناکہ وہ قانون کے خلاف رعایت کریں، مثلاً سامان کی قیمت کم ظاہر کریں، ڈیوٹی سے بچائیں، یا ممنوع اشیاء کو کلیئر کریں، تو یہ سراسر رشوت ہے جو کہ شرعاًناجائز اور حرام ہے۔البتہ اگر کسی شخص کا کوئی جائز حق ہو، لیکن اہل کار رشوت کے بغیر وہ حق ادا نہ کریں، تو ایسی صورت میں اولاً حتی الامکان  بغیر رشوت کے قانونی طریقہ کار کے مطابق کام کرانے کی کوشش کرنی چاہیے، البتہ اگر قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے باوجود بھی جائز   اور ضروری کام نہ ہو اور رشوت کا مطالبہ ہوتو پھر رشوت دینےوالا گناہ گار نہیں ہو گا،البتہ رشوت لینے والا بہرحال گناہ گار ہوگا۔

رہی بات مزدوروں کے ذریعے سامان چھپانے کی تاکہ کسٹم حکام کو نظر نہ آئے اور ڈیوٹی کم لگے،تو یہ مناسب نہیں۔

3۔کلیئرنگ ایجنٹ اگر قانونی تقاضوں کے مطابق سارے کام کرے اور اس کی اجرت پہلے سے طے شدہ ہو تو اس کا پیشہ شرعاً جائز ہے، البتہ اگر وہ رشوت، جعلی دستاویزات یا ممنوع اشیاء کی کلیئرنس میں شریک ہو تو اس صورت میں اس کا یہ عمل شرعاً ناجائز ہوگا۔

قرآن کریم میں ہے :

"﴿ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴾ ."[المائدة: 2]

ترجمہ: ”اور گناہ  اور زیادتی میں  ایک  دوسرے  کی اعانت مت کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو ، بلاشبہ  اللہ تعالیٰ  سخت سزا دینے والے ہیں۔“ (از بیان القرآن)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

وقوله تعالى: {وتعاونوا على البر والتقوى} يقتضي ظاهره ‌إيجاب ‌التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى.

(سورة المائدة، الآية:3، ج:2، ص:381، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

مرقاة المفاتیح میں ہے:

"(وعنه) أي عن أبي هريرة (أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام) بضم الصاد المهملة وسكون الموحدة ما جمع من الطعام بلا كيل ووزن على ما في القاموس والمراد بالطعام جنس الحبوب المأكول (فأدخل يده فيها) أي في الصبرة (فنالت أصابعه) أي أدركت (بللا) بفتح الموحدة واللام (فقال ما هذا) أي البلل المنبئ غالبا على الغش من غيره (يا صاحب الطعام) أي بائعه (قال أصابته السماء) أي المطر لأنها مكانه وهو نازل منها قال الشاعر:

إذا نزل السماء بأرض قوم … رعيناه وإن كانوا غضابا

(يا رسول الله) اعتراف بالإيمان وإقرار بالإذعان (قال أفلا جعلته) قال أسترت عينه أفلا جعلت البلل (فوق الطعام حتى يراه الناس) فيه إيذان بأن للمحتسب أن يمتحن بضائع السوقة ليعرف المشتمل منها على الغش من غيره. (من غش) أي خان وهو ضد النصح (فليس مني) أي ليس هو على سنتي وطريقتي. قال الطيبي: من اتصالية كقوله - تعالى - {المنافقون والمنافقات بعضهم من بعض} [التوبة: 67] (رواه مسلم) وروى الترمذي الجملة الأخيرة بلفظ " «من غش فليس منا» " ورواه الطبراني في الكبير وأبو نعيم في الحلية عن ابن مسعود بلفظ " «‌من ‌غشنا فليس منا، والمكر والخداع في النار»."

 (کتاب البیوع، باب الربا، ج:5، ص:1935، رقم:2860، ط:دار الفكر)

وفيھا ايضا:

"(وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»): أي: معطي الرشوة وآخذها، وهي الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلماً فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة؛ لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلايجوز لهم الأخذ عليه."

 (کتاب الأمارة والقضاء، باب رزق الولاة وهدایاهم، ج:7، ص:2437، رقم:3753، ط:دار الفكر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(والثالث) الخراج والجزية، وما ‌صولح ‌عليه بنو نجران من الحلل وبنو تغلب من الصدقة المضاعفة، وما أخذه العاشر من المستأمنين وتجار أهل الذمة كذا في السراج الوهاج. وتصرف تلك إلى عطايا المقاتلة وسد الثغور وبناء الحصون ثمة، وإلى مراصد الطريق في دار الإسلام حتى يقع الأمن عن قطع اللصوص الطرق، وإلى إصلاح القناطر والجسور، كذا في محيط السرخسي. وإلى كري الأنهار العظام التي لا ملك لأحد فيها كالجيحون والفرات ودجلة كذا في شرح الطحاوي. وإلى بناء الرباطات والمساجد وسد البثق (1) وتحصين ما يخاف عليه البثق، وإلى أرزاق الولاة، وأعوانهم والقضاة والمفتين والمحتسبين كذا في محيط السرخسي والمعلمين والمتعلمين كذا في السراج الوهاج. ويصرف إلى كل من تقلد شيئا من أمور المسلمين، وإلى ما فيه صلاح المؤمنين كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الزكاة، الباب الثامن في المصارف، ج:1، ص:190/191، ط:دار الفکر بیروت)

المبسوط للسرخسی میں ہے :

"الاستئجار ‌على ‌المعاصي ‌باطل فإن بعقد الإجارة يستحق تسليم المعقود عليه شرعا ولا يجوز أن يستحق على المرء فعل به يكون عاصيا شرعا."

(كتاب الإجارات، باب الإجارة الفاسدة، ج:16، ص:38، ط:دار المعرفة)

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجاً ينسج له ثياباً في كل سنة."

(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، مطلب في أجرة الدلال، ج:6، ص:63، ط:سعيد)

وفیه ایضا:

"وفي الأشباه الحرمة تنتقل مع العلم

(قوله وفي الأشباه إلخ) قال الشيخ عبد الوهاب الشعراني في كتاب المنن: وما نقل عن بعض الحنفية من أن الحرام لا يتعدى إلى ذمتين سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما من رأى المكاس يأخذ من أحد شيئا من المكس، ثم يعطيه آخر ثم يأخذه من ذلك الآخر فهو حرام اهـ. وفي الذخيرة: سئل أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمر السلطان والغرامات المحرمة، وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال: أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن غصبا أو رشوة اهـ وفي الخانية: امرأة زوجها في أرض الجور إذا أكلت من طعامه، ولم يكن عينه غصبا أو اشترى طعاما أو كسوة من مال أصله ليس بطيب فهي في سعة من ذلك والإثم على الزوج."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:385/386، ط:سعید)

وفیه ایضا:

"دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن  نفسه وماله ولاستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع اهـ."

(کتاب الحظر والإباحة، فصل في البیع، ج:6، ص:423، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100986

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں