بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کرنسی خرید کر ریٹ بڑھ جانے پر فروخت کرنا


سوال

 کوئی بندہ ڈالر یا درہم خرید کر مہنگے ہونے کے بہانے سے رکھ لیتا ہے اور جب وہ کرنسی ہائی ہو گی تو وہ فروخت کرتا ہے تو اس کی آمدنی سود کی ہوگی یا حلال؟ 

جواب

 ڈالر، درہم کو یا کسی بھی کرنسی کو خرید کر رکھنا اور پھر اس کے ریٹ مہنگے ہوجانے کے بعد اسے بیچ کر نفع کمانا جائز ہے۔ البتہ یہ ملحوظ رہے کہ  اگر ایک ملک کی کرنسی ڈالر یا درہم   کو   دیگر ممالک کی کرنسی کے بدلے فروخت کیا جارہا ہو تو  اس کو کمی زیادتی کے ساتھ فروخت کرنا تو جائز ہے، لیکن معاملہ نقد/ ہاتھ در ہاتھ ہونا ضروری ہے، ادھار جائز نہیں ہے، اوراگر ایک ملک کی کرنسی  کا تبادلہ اسی ملک کی کرنسی  سے کیا جائے تو اس صورت میں ہاتھ در ہاتھ  (نقد) معاملہ کرنے کے ساتھ برابری بھی ضروری ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 257):

'' (هو) لغةً: الزيادة. وشرعاً: (بيع الثمن بالثمن) أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ (جنساً بجنس أو بغير جنس) كذهب بفضة، (ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزناً، (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق)، وهو شرط بقائه صحيحاً على الصحيح، (إن اتحد جنساً وإن) وصلية (اختلفا جودةً وصياغةً) ؛ لما مر في الربا (وإلا) بأن لم يتجانسا (شرط التقابض)؛ لحرمة النساء، (فلو باع) النقدين (أحدهما بالآخر جزافاً أو بفضل وتقابضا فيه) أي المجلس (صح)''.

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200772

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں