بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 محرم 1448ھ 18 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور جدید مالیاتی نظام کی شرعی حیثیت سے متعلق سوالات


سوال

1-اسلامی نقطہ نظر سے زر (پیسہ) کی کیا تعریف ہے؟

2) زر اور کرنسی کی تعریف کیا ہے؟

3) کیا زر کی تعریف قرآن و حدیث میں صراحت کے ساتھ آئی ہے یا یہ تعریف ائمہ کرام کی آراء سے اخذ کی گئی ہے؟

4) بلاک چین، جو کہ ایک عوامی کھاتہ (Public Ledger) ہے، کیا یہ ٹیکنالوجی شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟

5) کیا آپ کرپٹوگرافی (Cryptography) اور پیچیدہ ریاضی کے ذریعے بنائی جانے والی ڈیجیٹل کرنسی کو ناجائز قرار دیں گے؟

6) کرپٹو کرنسی اور اس جیسی دیگر کرنسیاں جیسے ایتھیریم، لائٹ کوائن اور رپل، یہ سب کرپٹوگرافی کی مدد سے وجود میں آئی ہیں اور عوام میں تدریجاً مقبول ہورہی ہیں۔ کیا ان میں بذات خود کوئی شرعی قباحت ہے؟

7) بعض لوگ کرپٹو کرنسی کو ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، مثلاً نشہ آور اشیاء کی خرید و فروخت یا جرائم کی ادائیگی۔ کیا اس صورت میں صرف ان کا وہ عمل ناجائز ہوگا یا خود کرپٹو کرنسی بھی ناجائز ہوجائے گی؟

8) اگر آپ لوگوں کی فلاح و بہبود یا ان کی لاعلمی کے پیش نظر کسی ممکنہ نقصان کے خدشے کی بنا پر فی الحال کرپٹو کرنسی کو ناجائز قرار دے رہے ہیں، تو براہ کرم وضاحت فرمائیں کہ یہ حکم عوامی مفاد کی خاطر عارضی طور پر ہے، نہ یہ کہ کرپٹو کرنسی بذات خود حرام ہو گئی ہے۔

9) اکیسویں صدی بلاشبہ ایجادات اور نت نئی ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ اگر قرآن یا صحابہ کرام کے اقوال میں ان (جدید) چیزوں کی مثالیں نہیں ملتیں، مثلاً فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام وغیرہ، تو کیا ایسی نئی ٹیکنالوجی کے علم کا حصول اور یہ جانچنا کہ وہ شریعت کے مزاج کے موافق ہیں یا نہیں، جائز ہے یا ناجائز؟

10) حکومتوں کی کرپشن، لوٹ مار اور بے راہ روی کے باعث لوگوں کا مرکزی اداروں سے اعتماد اٹھتا جارہا ہے۔ ایسے میں وہ متبادل نظام کی تلاش میں حیران و سرگرداں ہیں۔ کرپٹو کرنسی اور بلاک چین اس تناظر میں ایک متبادل نظام فراہم کرتے ہیں۔ کیا ہم ظلم و زیادتی برداشت کرتے رہیں یا اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کسی اور نظام کی طرف مائل ہو سکتے ہیں؟

جواب

1-جو چیز عرف و رواج کے مطابق ذریعۂ مبادلہ کے طور پر استعمال کی جاتی ہے اور جو قدر کا پیمانہ بنتی ہے اور مالیت کو محفوظ کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے، اسے زر کہا جاتا ہے۔ عربی میں اسے نقد اور انگریزی میں Money کہتے ہیں۔ زر کی دو قسمیں ہیں: ایک حقیقی زر اور دوسری اعتباری زر۔ حقیقی زر کا اطلاق صرف سونے اور چاندی پر ہوتا ہے، جبکہ سونے چاندی کے علاوہ زر کی باقی تمام اقسام، خواہ کسی بھی شکل میں ہوں، اعتباری زر کہلاتی ہیں۔(تجارت کے مسائل کا انساکلوپیڈیا ،جلد چہارم،ص:74//80)

2-دونوں کی تعریف قریب قریب ہے البتہ کرنسی کے مقابلے میں زر کا مفہوم زیادہ عام ہے، کیونکہ زر میں کرنسی کے علاوہ وہ اشیاء بھی شامل ہیں جن کی بنیاد پر معاشرے میں لین دین ہوتا ہے۔ جبکہ کرنسی صرف کاغذی نوٹ اور دھاتی سکوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ کرنسی کے ذریعہ ادائیگی کی صورت میں دوسرے فریق پر قانونی اعتبار سے اس کو قبول کرنا لازم ہوتا ہے، جبکہ عام زر (مثلاً کسی جنس یا چیز) کے ذریعہ ادائیگی کی صورت میں قبول کرنا لازمی نہیں ہوتا۔(تجارت کے مسائل کا انساکلوپیڈیا ،جلد چہارم ،ص:74)

3-ائمہ کرام اور اقتصادی ماہرین نے کسی چیز کے زر ہونے کے لیے تین خصوصیات ضروری قرار دی ہیں: (1) وہ چیز مبادلہ کا ذریعہ ہو، (2) اشیاء کی قیمتوں کے لیے معیار ہو، اور (3) دولت کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہو۔(تجارت کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا، جلد  چہارم ،ص:80)

4-بلاک چین ایک ایسی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا نام ہے جس کی مدد سے ہم ایک کمپیوٹر نیٹ ورک پر ریکارڈ کو محفوظ کرتے ہیں، جس کی تعریف کچھ اس طرح سے ہوگی: ’’بلاک چین ایک ایسا ڈیٹا اسٹرکچر یعنی ڈیٹا محفوظ کرنے کا طریقہ کار ہے، جس کے اندر ایک مرتبہ ریکارڈ اگر بلاک چین میں محفوظ کردیا گیا تو پھر اس کے اندر تبدیلی نہیں لائی جاسکتی، شامل کیے گئے ریکارڈ کو صرف پڑھا جاسکتا ہے اور نیا ڈیٹا ہمیشہ بلاک چین کے آخر میں شامل کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بلاک چین ایک بہت زیادہ غیر تغیر قسم کا ریکارڈ محفوظ کرنے کا نظام مہیا کرتا ہے۔

مذکورہ تفصیل کی رو سے  بلاک چین ٹیکنالوجی کو سیکھنا اور عمومی طور پر استعمال کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس کا استعمال شرعی حدود میں ہو۔ جیسا کہ ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

لیکن اگر  کوئی شخص اسی بلاک چین کا استعمال ناجائز کاموں کے ریکارڈ محفوظ کرنے کے لیے کرے، جیسے شراب کی فیکٹریوں، سودی اداروں، یا انشورنس کمپنیوں کے ریکارڈ محفوظ کرنے کے لیے،تو پھر اس کا استعمال اور سیکھنا جائز نہیں ہے۔

لہٰذا اگر آپ بلاک چین ٹیکنالوجی کو کسی خاص سیکٹر یا مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو بہتر یہی ہے کہ تفصیلات کے ساتھ کسی مستند مفتی سے رجوع کریں، تاکہ وہ آپ کو شرعی رہنمائی فراہم کر سکیں کہ اس مخصوص استعمال میں کیا حدود و قیود ہیں۔

5، 6، 7 اور 8۔ واضح رہے کہ کرپٹوگرافی محض ایک تالے کی حیثیت رکھتی ہے، اور بذاتِ خود ایک مباح (جائز) چیز ہے۔ لیکن آج کل جتنی بھی ڈیجیٹل کرنسیاں ان کی مدد سے رائج ہیں، ان کا کوئی حقیقی وجود نہیں ہوتا، بلکہ وہ صرف مفروضہ (فرضی) حیثیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح ان میں قبضے کی حقیقی شکل بھی موجود نہیں ہوتی،لہذا ان تمام کرنسیاں کا بیع باطل   ہے، اس کا حکم یہ ہے   کہ بائع کی ثمن (پیسے)پر اور مشتری کی مبیع (خریدی ہوئی چیز)پر ملکیت ثابت نہیں ہوگی ، اور اس سے حاصل ہونے والا نفع سود کے حکم میں ہوگا ،بلکہ بائع پر لازم ہے مشتری کو ثمن واپس کر دے۔

لہٰذا کرپٹوگرافی یا بلاک چین کے استعمال کی وجہ سے یہ کرنسیاں جائز نہیں ہوجاتیں، بلکہ ان کی بنیادی نوعیت ہی ایسی ہے کہ ان کا استعمال اور ان کے ذریعے کاروبار کرنا شرعاً ناجائز ہے۔

مذکورہ  سوالات کی مزید  تفصیلات کے لیے لینک کا ملا حظہ فرمائیں۔

کرپٹو کرنسی کے متعلق چند اشکالات اور اس کا جواب

9-نئی ٹیکنالوجی کے علم کو حاصل کرنا اگر شرعی حدود کی رعایت کے ساتھ ہو تو جائز ہے۔ اور اگر اس میں شرعی حدود کی رعایت نہ کی جائے تو جس قدر حدود شرع کی پامالی ہوگی، اسی درجے میں ناجائز عمل اور گناہ ہوگا۔ اگر آپ خود عالم یا مفتی ہیں تو شرعی حدود کا علم آپ کو ہوگا، ورنہ کسی معتبر اور مستند مفتی کو اپنی فیلڈ کی تفصیلات بتا کر شرعی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

10-دورِ حاضر میں مختلف ممالک میں جو کرنسیاں رائج ہیں، ان پر متعلقہ حکومتوں کا کنٹرول ہوتا ہے، اور مجموعی طور پر تمام ممالک کی کرنسیوں پر ورلڈ بینک کی نگرانی اور اثر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیاں بذات خود باطل ، کمزور اور ان کا نظام  اس سے کہی غیر مستحکم ہے۔ اسی وجہ سے ڈیجیٹل کرنسی کا نظام مستقبل میں رائج کرنسیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پرخطر محسوس ہوتا ہے۔

موجودہ صورتِ حال سے نمٹنے کا واحد مؤثر راستہ یہ ہے کہ انتخابات میں حدودِ شرع کی روشنی میں عوامی اور ملکی مفاد کو سامنے رکھا جائے، اور رائے عامہ کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے کہ اقتدار تک پہنچنے والے افراد دیانت دار اور امانت دار ہوں۔

 تفسير القرآن العظيم للسخاوي میں ہے :

"{هو الذي خلق لكم ما في الأرض جميعا} فيه دليل على أن أصل الأشياء بعد ورود الشرع على الإباحة."

وعلي هامشه:

"‌الأصل ‌في ‌الأشياء الإباحة؛لأن الإباحة هي الحكم الأصلي لموجودات الكون، وإنما يحرم ما يحرم منها بدليل من الشارع لمضرتها، والدليل على أن الحكم الأصلي للأشياء النافعة هو الإباحة: قوله - تعالى - ممتنا على عباده: وسخر لكم ما في السماوات وما في الأرض جميعا منه إن في ذلك لآيات لقوم يتفكرون [الجاثية: 13] وقوله - تعالى: هو الذي خلق لكم ما في الأرض جميعا [البقرة: 29] ولا يتم الامتنان ولا يكون التسخير إلا إذا كان الانتفاع بهذه المخلوقات مباحا."

(تفسير سورة البقرة (مدنية)،ج:1،ص:63،ط:دارالنشرللجامعات)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144510101032

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں