بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کریڈٹ کارڈ کے واجبات کی ادائیگی کا حکم


سوال

میں نے کئی سال قبل بیرون ملک میں ملازمت کی تھی۔اس دوران میں نے کریڈٹ کارڈ استعمال کیا، مگر میں کچھ واجبات (کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بینک سےحاصل کردہ رقم) وقت پرواپسی نہیں کرسکا، اور اس بات کو تقریبا پندرہ سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور میری عمر پچہترسال ہو گئی ہے۔

اب بینک سے رابطہ کرنا میرے لیے ممکن نہیں، کیونکہ پلینٹی (سود) لگ لگ کر اتنی بڑی رقم ہو چکی ہو گی جسے ادا کرنا ممکن نہیں۔ نیز مجھے خدشہ ہے کہ دوبارہ رابطہ کرنے سے غیر ضروری قانونی کاروائی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان معاملات کے بارے میں میرے گھر والوں کو بھی معلوم نہیں ہے اور میں پاکستان میں رہ کر بینک سے رابطہ کرنا ممکن نہیں سمجھتا۔

اسی وجہ سے میرے ذمہ بینک  کی جتنی اصل رقم واجب الاداء تھی، اس کو ایک سال کی پلینٹی(سود) کے ساتھ خیرات کر دیا ہے۔ باقی دو کریڈٹ کارڈ کے واجبات ہیں، انہیں بھی اسی طرح صاف کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔تو میرا یہ اقدام کس حدتک درست ہے؟ میری اس معاملے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ کریڈٹ کارڈ بنوانا،اس کا استعمال کرنااور اس کے ذریعہ سے خرید وفروخت کرناشرعاجائزنہیں ہے۔اس لیے کہ کسی  معاملے کے حلال وحرام ہونے  کی بنیاد  درحقیقت  وہ معاہدہ  ہوتا ہے جو  فریقین کے  درمیان طے پاتا ہے، کریڈٹ کارڈ  لینے والا کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والے اداروں کے ساتھ یہ معاہدہ کرتا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں لی جانے والی رقم واپس نہ کر سکا تو ایک متعین شرح کے ساتھ  جرمانہ کے نام پر سود  ادا کروں گا،  شریعت میں  جس طرح سود لینا حرام ہے،  اسی طرح سودی لین دین کا معاہدہ کرنا بھی شرعًا حرام ہے، لہذا   معاہدہ کے سودی ہونے کی وجہ سے کریڈٹ کارڈ بنوانا ہی ناجائز ہے اگرچہ کریڈٹ کارڈ بنوانے والا وقت مقررہ پرقرضہ کی رقم ادا کردے۔

اس تفصیل کی روشنی میں صورت مسئولہ میں سب سے پہلےآپ پر لازم ہے کہ آپ کریڈٹ کارڈ کے بنوانے پر اور اس کے استعمال پر سچے دل سے توبہ و استغفار کریں، اور کریڈٹ کارڈ زکے استعمال پر آپ کے ذمہ بیرون ملک کے بینک کی جو اصل رقم قرض ہے، وہ اصل رقم کسی بھی ذریعے سے اور  کسی بھی نام سےبیرون ملک کے بینک تک پہنچانا آپ کے ذمہ لازم ہے، بینک کی واجب الاداء رقم صرف خیرات کرنے سے آپ کی ذمہ داری ختم نہیں ہو گی،لہذا آپ نے ایک کریڈٹ کارڈ کی جو رقم خیرات کی ہے ، اس سے آپ کے ذمہ بینک کااصل قرضہ ادا نہیں ہوا بلکہ اس رقم کو  بینک تک پہنچانا لازم ہے۔ 

بدائع الصنائع میں ہے:

"فتعين أن يكون الواجب فيه رد المثل..... (وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة على أن يرد عليه صحاحا أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أنه «نهى عن قرض جر نفعا»؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب، هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض."

 (كتاب القرض، فصل في شرائط ركن القرض، ج: 7، ص: 395، ط: دار الكتب العلمية)

مجلۃ الاحکام  العدلیہ میں ہے:

"ما حرم فعله حرم طلبه."

(‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ط: نور محمد)

فتاوی شامی میں ہے:

"والحاصل أنه إن علم ‌أرباب ‌الأموال وجب رده عليهم."

(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج: 5، ص: 99، ط: دار الفکر)

وفیہ ایضا:

"(ويبرأ بردها ولو بغير علم المالك) في البزازية غصب دراهم إنسان من كيسه ثم ردها فيه بلا علمه برئ وكذا لو سلمه إليه بجهة أخرى كهبة أو إيداع أو شراء وكذا لو أطعمه فأكله."

(كتاب الغصب، ج: 6، ص: 182، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101626

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں