بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کریڈٹ کارڈ بنانے کا حکم


سوال

 میری رہنمائی فرمائیں کہ دین اسلام میں کریڈٹ کارڈ کا بنانا اور استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہےکہ کریڈٹ کارڈ  بنوانا اور اس کا استعمال کرنا ناجائز و حرام ہے کیوں کہ کسی چیز کے جائز اور ناجائز  ہونے کا مدار اس معاہدہ پر ہوتاہے جو فریقین کے درمیان طے پاتا ہے اور مذکورہ  کارڈ جاری کرنے والا  کارڈ جاری کرتے وقت کارڈ ہولڈر سےیہ طے كرتاهے  کہ اگر مقررہ مدت میں  ادائیگی نہیں کی توپھرمتعین شرح کے ساتھ جرمانہ کے نام پر   سود  ادا کرنا ہوگا اور كارڈ بنوانے والے كو اس پر رضامند هوناپڑتا هے تو جس طرح  سود کا لینا اور دینا دونوں حرام ہے  اسی طرح سودی معاہدہ کرنا بھی حرام   ہے ، پھر اگر بالفرض  کارڈ ہولڈر  اس میں وقت پر ادائیگی کر بھی دے اور سود ادا نہ کرے تب بھی صرف اس معاہدے کی وجہ سے اس کارڈ کا بنوانا اور استعمال کرنا ناجائز و حرام ہوگا ؛اس لیے کہ بوقت ِ معاہدہ ایک غیر شرعی شرط پائی جارہی ہے   لہذا یہ کارڈ بنانا اور استعمال کرنا ہر حال میں ناجائز اور حرام ہے، چاہے وقت پر ادائیگی کرکے سود ادا نہ کرے یا وقت پر ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں سود ادا کرے۔

فتاوی شامی میں ہے:

‌‌"[مطلب كل قرض جر نفعا حرام]

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه." 

(کتاب البیوع،فصل فی القرض جلد 5 ص: 166 ط: دارالفکر)

الاشباہ و النظائر میں ہے:

"‌‌القاعدة الرابعة عشرة: ما حرم أخذه حرم إعطاؤه.....ويقرب من هذا قاعدة: ما حرم فعله حرم طلبه."

(القاعدۃ الرابعة عشر ص: 132 ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144511100494

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں