
اگر کوئی لڑکی کسی کزن کو عرصہ دراز تک بھائی کہہ کے بلاتی رہی ہو ،لیکن بالغ ہونے کے بعد وہ کزن اسے پسند کرنے لگے اور رشتہ بھجوا دے ۔ جب کہ لڑکی یہ کہہ کر انکار کرے کہ وہ اس کو بھائی کی نظر سے دیکھتی آئی ہے اس لئے اس سے نکاح نہیں کر سکتی ۔
مطلب وہ یہ جانتی ہے کہ وہ لڑکا نامحرم ہے بھائی کہنے سے بھائی بن نہیں جاتا؛ لیکن اس لڑکے کو لے کرلڑکی کے دل و دماغ میں حیاء کا تاثر زیادہ ہو اور نکاح کی طرف رغبت نہ جاتی ہو ۔
مطلب آگے ازدواجی تعلق میں حیاء مانع آنے کا یقین ہو تو ایسا نکاح کرنا جائز ہوگا یا نہیں ؟
واضح رہے کہ کسی بھی عورت کے حق میں اس کا کزن جیسے چچازاد،ماموں زاد وغیرہ اگر ان دونوں کےدرمیان محرمیت کاکوئی رشتہ نہ ہوتووہ کزن اس عورت کے حق میں ہمیشہ نامحرم ہی رہےگا،اس کومحارم کی نظر میں دیکھنے سے کبھی بھی وہ محرم نہیں بن سکتا ،اورنہ شریعت میں اس نظرکا کوئی اعتبار ہے ۔
صورت مسئولہ میں اپنے کزن کو بھائی کہنے سے وہ اس لڑکی کا حقیقی بھائی نہیں بنا؛ لہذا اس کے کزن کا نکاح اس کے ساتھ جائز ہے، مذکورہ عوامل نکاح سے مانع نہیں۔
تفسیر قرطبی میں ہے:
"قوله تعالى: (ادعوهم لآبائهم) نزلت في زيد بن حارثة على ما تقدم بيانه. وفي قول ابن عمر: ما كنا ندعو زيد بن حارثة إلا زيد بن محمد دليل على أن التبني كان معمولا به في الجاهلية والإسلام يتوارث به ويتناصر إلى أن نسخ الله ذلك بقوله: (ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله) أي أعدل. فرفع الله حكم التبني ومنع من إطلاق لفظه."
(سورۃ احزاب، ج:14، ص:108، ط:مکتبة وحیدیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101731
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن