
ایک بالغہ لڑکی نےکورٹ میرج کیاجبکہ وہ عالمہ تھی ،اس کی ایک بیٹی بھی ہوچکی ہے، اس کی والدہ نےاپنی بیٹی سےقطع تعلقی کرلیا ،اس لڑکی کےبڑےبھائی نےاپنی مذکورہ بہن سےخیرخیریت معلوم کرنےکےلیےرابطہ کیاتواس کی والدہ کوپتاچل گیا،انہوں نےاپنےبیٹےسےبات چیت چھوڑدی،کبھی بات چیت کرتی ہیں، لیکن صحیح طرح سےجواب نہیں دیتیں اورتجسس میں رہتی ہیں کہ کون اس لڑکی سےرابطہ کرتاہے،خاص طورپرجب ان کابیٹااپنی بہن سےرابطہ کرتاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب مذکورہ لڑکی اپنے فعل پر نادم ہے تو کیا اس کی والدہ کا اس سے قطع تعلقی کرنا شرعاً درست ہے؟ نیز کیا لڑکی کے بھائی پر والدہ کے اس طرزِ عمل کی اطاعت لازم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ لڑکی کےکورٹ میرج کرنےپراس کی والدہ کی ناراضی بجاہے،لڑکی کوچاہیےکہ اپنےاس فعل کی والدہ سےمعافی مانگےاورانہیں راضی کرنےکی بھرپورکوشش کرے، والدہ کی ناراضی بہت بڑاخساراہے۔ اگرلڑکی نادم ہوکراپنی والدہ سےمعافی مانگ رہی ہےتووالدہ کوچاہیےکہ اسےمعاف کردیں اورتعلقات بحال کرلیں، تاہم والدہ کاکسی اورکوقطع تعلقی پرمجبورکرنادرست نہیں ہےاورنہ ہی اس معاملےمیں والدہ کی اطاعت لازم ہے۔
مشكاة المصابيح میں ہے:
"عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا طاعة في معصية إنما الطاعة في المعروف."
(كتاب الإمارة والقضاء، الفصل الأول، ج: 6، ص: 1086، ط: دار الفكر، بيروت)
”حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاگناہ کے کام میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت تو صرف نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ہے۔ “
مرقاة المفاتيح میں ہے:
"لا طاعة أي لأحد كما في رواية الجامع الصغير أي من الإمام وغيره كالوالد والشيخ (في معصية) وفي رواية الجامع: في معصية الله (إنما الطاعة في المعروف) أي ما لا ينكره الشرع."
(كتاب الإمارة والقضاء، ج: 6، ص: 2393، ط: دار الفكر، بيروت)
فتح الباری میں ہے:
"واستدل بهذه الأحاديث على أن من أعرض عن أخيه المسلم وامتنع من مكالمته والسلام عليه أثم بذلك؛ لأن نفي الحل يستلزم التحريم، ومرتكب الحرام آثم.
قال ابن عبد البر: أجمعوا على أنه لا يجوز الهجران فوق ثلاث إلا لمن خاف من مكالمته ما يفسد عليه دينه أو يدخل منه على نفسه أو دنياه مضرة، فإن كان كذلك جاز.....ولا يخفى أن هنا مقامين أعلى وأدنى، فالأعلى اجتناب الإعراض جملة فيبذل السلام والكلام والمواددة بكل طريق، والأدنى الاقتصار على السلام دون غيره، والوعيد الشديد إنما هو لمن يترك المقام الأدنى، وأما الأعلى فمن تركه من الأجانب فلا يلحقه اللوم، بخلاف الأقارب فإنه يدخل فيه قطيعة الرحم، وإلى هذا أشار ابن الزبير في قوله فإنه لا يحل لها قطيعتي، أي إن كانت هجرتي عقوبة على ذنبي فليكن لذلك أمد، وإلا فتأبيد ذلك يفضي إلى قطيعة الرحم."
(كتاب الأدب، باب الهجرة، ج: 10، ص: 496، ط: المكتبة السلفية ،مصر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100969
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن