
ایک کورئیر کمپنی سی او ڈی پر مال بیچنے والے سے چارجز وصول کرتی ہے اور جتنی رقم اسے آگے سے وصول کرنی ہوتی ہے اس کا ستر فی صد اگلے دن ہی بیچنے والے کو اپنے پاس سے دے دیتی ہے۔ جب کہ سامان پہنچانے میں کچھ دن لگ جاتے ہیں۔ بقیہ تیس فیصد 20 سے 30 دن میں فراہم کرتی ہے۔ یہ معاملہ کیسا ہے؟ اور اس پورے معاملے کے ہر ہر مرحلے کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
وضاحت: بعض کورئیر کمپنی اس ایڈوانس رقم کی ادئیگی پر الگ سے چارجز وصول کرتی ہے، اور بعض نہیں، میں جس کمپنی کی بات کررہاہوں اس کا نام postex ہے اور یہ اس ایڈوانس رقم کی ادائیگی پر الگ سے چارجز وصول نہیں کرتی، صرف اپنی خدمات کی چارجز وصول کرتی ہے۔بقیہ تیس فیصد 20 سے 30 دن تک جو روکتی ہے اس کی وجہ یہ بیان کرتی ہے، تاکہ پیسوں کا سائیکل چلتا رہے۔ اگر کوئی مال واپس ہو تو اس کے پیسے ایڈجسٹ ہوسکیں۔نیز کمپنی اپنی خدمات کا چارجز اس دوسری قسط سے وصول کرتی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کمپنی مال بیچنے والے کو اپنے پاس سے جو 70 فیصد رقم کی ادائیگی کرتی ہے اگر وہ واقعتًا اس پر الگ سے چاجز وصول نہیں کرتی، صرف اپنی خدمات کا چارزجز وصول کرتی ہے جیسا کہ سائل نے وضاحت کی ہے تو یہ معاملہ شرعاً درست ہے، اس میں حرج نہیں۔البتہ جو کمپنی ایڈوانس رقم کی ادائیگی پر اضافی چارجز وصول کرتی ہو تو پھر یہ سودی معاملہ ہوگا جو کہ حرام ہے۔
النتف في الفتاویٰ میں ہے:
"والاجارة لاتخلو من وجهين:اما ان تقع على وقت معلوم، او على عمل معلوم، فان وقعت على عمل معلوم فلا تجب الاجرة الا باتمام العمل اذا كان العمل مما لا يصلح اوله إلا بآخره وان كان يصلح اوله دون آخره فتجب الاجرة بمقدار ما عمل".
( کتاب الإجارۃ، ج:2، ص:558، ط:مؤسسة الرسالة)
الدر المختار ميں ہے:
"كل قرض جر نفعا حرام."
(کتاب البیوع، باب الربا، ص:340، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144612100957
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن