
سوال نمبر 1: کیا کا سمیٹک پروڈکٹ میں خنزیر سے حاصل شده جیلاٹین (Gelatin) اگر مکمل کیمیکل تبدیلی سے گزرا ہو تو استعمال کیا جا سکتاہے؟
سوال نمبر 2 : اگر لپ اسٹک، نیل پالش، یا کوئی اور کا سمیٹک پانی کو جلد تک نہ پہنچنے دے تو کیا وضو یا غسل ہو جاتا ہے ؟کیا کا سمیٹکس استعمال کرنے کے بعد وضو درست ہوتا ہے ؟ خاص طور پر واٹر پروف میک اپ یا نیل پالش کے بعد ؟
سوال نمبر 3: کیا کا سمیٹک مصنوعات استعمال کرنے سے نماز کی درستگی پر کوئی اثر پڑتا ہے ؟ کیا لپ اسٹک یا فاؤنڈیشن نماز کے دوران لگا کر رکھی جاسکتی ہے ؟
سوال نمبر 4: کسی کاسمیٹک پروڈکٹ پر درج اجزاء (Ingredients) میں Stearic acid" یا "Glycerin" لکھا ہو، تو کیاوہ حلال ہو سکتا ہے؟ ان کی حیوانی یا نباتاتی اصل کیسے معلوم ہو؟
1: صورتِ مسئولہ میں اگر کاسمیٹک اشیاء میں خنزیر کے اجزاء سے حاصل کردہ جیلاٹین (Gelatin)شامل کیا گیا ، اور اس پر ثبوت بھی ہے، تو اس كا استعمال ناجائز اور حرام هے،اس ليے كه خنزیر اپنے تمام اجزاء کے ساتھ حرام اور نجس العین ہے،اس کے کسی بھی جزء سے فائدہ اٹھانا شرعا جائز نہیں ہے ، نيز ہماری معلومات کے مطابق جیلاٹین (Gelatin) ميں جو كيمیائي عمل كيا جاتا ہے، اس سے جيلاٹين كي ماہیت تبدیل نہیں ہوتی، بلکہ وہ بدستور موجود ہوتا ہے، اور اس کو محفوظ رکھنا مقصود بھی ہوتا ہے، بس اس کی ظاہری صورت میں تغیر وتبدیلی ہوجاتی ہے۔
باقی جیلاٹین کے كيمیائي پراسس کی مزید تفصیل کے لیے ”حلال انڈسٹری سے متعلق تحقیقی مقالات“ (تالیف: اراکین شعبہ شرعی تحقیق، سنحا پاکستان) میں صفحہ 183 پر ”جیلاٹین کی شرعی تحقیق“ ملاحظہ فرمائیں۔
2: صورتِ مسئولہ میں اگر میک اپ جِلد تک پانی پہنچنے سے مانع ہے تو وضو کے لیے اس کو اتارنا ضروری ہوگا، لیکن اگرپانی پہنچنے سے مانع نہیں ہے یعنی پانی جلد تک پہنچ جاتا ہو تو میک اپ کے اوپر وضو کرنا جائز ہو گا، البتہ واٹر پروف میک اپ چونکہ اعضاء وضو تک پانی پہنچنے سے مانع ہے،لہذا واٹر پروف میک اپ میں کیا ہوا وضو درست نہیں ہے، ہاں اگر وضو کے بعد واٹر پروف میک اپ لگالیا جائے اور اس میں حرام اجزاء شامل نہ ہوں تو ایسے میک اپ میں نماز پڑھنا درست ہے۔
3: میک اپ کی حالت میں نماز پڑھنا درست ہے،بشرطیکہ میک اپ کے اجزاء میں حرام اشیاء کی آمیزش نہ ہو، البتہ اگر حرام اجزاء شامل ہوں تو نماز درست نہیں ہوگی ،اور نماز کا اعادہ لازم ہوگا۔
4: جن کاسمیٹک مصنوعات کے اجزاء میں Stearic Acid (اسٹیئرک ایسڈ) یا Glycerin (گلیسرین) جانوروں کی چربی سے حاصل شدہ ہو اور وہ جانور حرام ہوں یا انہیں شرعی طریقے سے ذبح نہ کیا گیا ہو ایسی مصنوعات کا استعمال جائز نہیں ہوگا، اور اگر دیگر جائز ذرائع سے حاصل شدہ ہو تو اس کا استعمال جائز ہوگا۔
لہذا جس کاسمیٹک مصنوعات میں حرام اجزاء کے یقینی طور پر شامل ہونے کا علم ہو ان کا استعمال شرعًا حرام ہوگا، اسی طرح جن مصنوعات میں حرام اجزاء کی شمولیت کا ظنِّ غالب ہو، ان کا استعمال بھی ممنوع ہوگا، البتہ جن میں ایسا نہ ہو، ان کا استعمال ناجائز نہیں ہوگا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
"إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ". (البقرة : 173)
ترجمہ : "اللہ نے تو تم پر صرف حرام کیا ہے مردار کو اور خون کو ( جو بہتا ہو ) اور خنزیر کے گوشت کو (اس طرح کے سب اجزاء کو بھی ) اور ایسے جانور کو جو بقصد تقرب) غیر اللہ کیلئے نامزد کر دیا ہو۔" (ازبیان القرآن)
المحیط البرہانی میں ہے:
"ولا يجوز بيع شعر الخنزير؛ لأن الخنزير عينه نجس بجميع أجزائه منع الشرع عن الانتفاع به إهانة لعينه واستقباحاً لذاته، وفي البيع إعزاز له إلا أن رخص للخراز الانتفاع به من حيث الخرز؛ لأجل الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع، وعن أبي يوسف أنه كره الانتفاع به للخرازين؛ لأنه نجس ولا ضرورة في الانتفاع به؛ لأن الخرز يحصل بغيره، وعن بعض السلف أنه لا يلبس مكعباً ولا خفاً أخرز من شعر الخنزير."
(کتاب البیع، ج:6، ص:350، ط:دار الکتب العلمیة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
" في فتاوى ما وراء النهر: إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز وإن تلطخ يده بخمير أو حناء جاز. وسئل الدبوسي عمن عجن فأصاب يده عجين فيبس وتوضأ قال: يجزيه إذا كان قليلا. كذا في الزاهدي وما تحت الأظافير من أعضاء الوضوء حتى لو كان فيه عجين يجب إيصال الماء إلى ما تحته. كذا في الخلاصة وأكثر المعتبرات. ذكر الشيخ الإمام الزاهد أبو نصر الصفار في شرحه أن الظفر إذا كان طويلا بحيث يستر رأس الأنملة يجب إيصال الماء إلى ما تحته وإن كان قصيرا لايجب. كذا في المحيط. ولو طالت أظفاره حتى خرجت عن رءوس الأصابع وجب غسلها قولا واحدا. كذا في فتح القدير. وفي الجامع الصغير سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في أظفاره الدرن أو الذي يعمل عمل الطين أو المرأة التي صبغت أصبعها بالحناء، أو الصرام، أو الصباغ قال كل ذلك سواء يجزيهم وضوءهم إذ لايستطاع الامتناع عنه إلا بحرج والفتوى على الجواز من غير فصل بين المدني والقروي. كذا في الذخيرة وكذا الخباز إذا كان وافر الأظفار. كذا في الزاهدي ناقلا عن الجامع الأصغر. والخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل. كذا في السراج الوهاج ناقلاً عن الوجيز."
(کتاب الطھارۃ، الباب الاول، 1/ 4، ط: رشيدية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما فيجب غسله وما دونه تنزيها فيسن وفوقه مبطل (وهو مثقال) عشرون قيراطا (في) نجس (كثيف) له جرم (وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة) آدمي وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ."
(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، 1/ 316، ط:سعید)
مجمع الأنهر میں ہے:
"واعلم أن الأصل في الأشياء كلها سوى الفروج الإباحة قال الله تعالى: هو الذي خلق لكم ما في الأرض جميعا، وقال: كلوا مما في الأرض حلالا طيبا، وإنما تثبت الحرمة بعارض نص مطلق أو خبر مروي فما لم يوجد شيء من الدلائل المحرمة فهي على الإباحة."
(کتاب الأشربة، 2 / 568، ط:دار إحياء التراث)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144702101789
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن