بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1447ھ 08 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کرونا وائرس کے علاج کے لیے اذان


سوال

کرونا وائرس کی وجہ سے مسجدوں میں اذانیں دی جارہی ہیں، اس کے متعلق آپ کا کیا مشورہ ہے؟

جواب

وبا کے خاتمے کے لیے اذان دینے کے بارے میں فقہاءِ احناف سے کوئی روایت منقول نہیں ہے، البتہ شوافع کے ہاں اس طرح کے بعض مواقع پر اذان دینے کی اجازت ہے، اس لیے وبا کے خاتمے کے لیے اذان دینے کی گنجائش ہے، تاہم یہ اذان مساجد میں نہ دی جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144108200314

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں