بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مصنوعی اعضاء مخصوصہ اور جنسی ادویات کی خرید وفروخت کاحکم


سوال

 سیکس پروڈکٹ جس کی مارکیٹ میں اور آن لائن آج کل بہت زیادہ بیع و شراء ہو رہی ہے۔ اس کاروبار کا شریعت کی روشنی میں کیا حکم ہے؟ جیسے عضوتناسل کےلئے خاص تیل ، ٹائمنگ گولیاں ، کنڈم ، مردانہ و زنانہ مصنوعی عضوِ تناسل کی خرید و فروخت ۔

جواب

واضح رہے کہ مرد کے لیے بیوی یا باندی کے علاوہ کسی بھی چیز کے ذریعہ شہوت کو ابھارنا یا شہوت  پوری کرنا ، اسی طرح عورت کے لیے شوہر کے علاوہ دوسری کسی بھی چیز سے شہوت کو ابھارنا یا شہوت پوری کرنا جائز نہیں ہے۔

اسی طرح یہ بھی واضح رہناچاہیے کہ اگر کسی چیزکے عین کے ساتھ گناہ قائم ہواور اس کا غالب استعمال بھی گناہ کے واسطے ہوتاہواور اس میں گناہ کے علاوہ کوئی اور احتمال نہ ہو تو اس چیزکی خرید و فروخت ناجائز ہوتی ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں مردانہ یا زنانہ آلہ تناسل کی خریدوفروخت ناجائزہے؛کیوں اس کی بناوٹ ہی گناہ کے واسطے ہےاور وہ گناہ اس کے عین کے ساتھ قائم ہے۔البتہ جنسی ادویات  میں اگر حرام  یا مضرِ صحت اجزاء شامل نہ ہوں، تو اس  کی خرید وفروخت جائز ہے، لیکن اگر خریدار کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ ناجائز کام کے لیے استعمال کرے گا، تو جان بوجھ کر ایسے آدمی کو فروخت کرنا جائز نہیں ہو گا، اسی طرح اگر  ان ادویات میں حرام یا مضرِصحت  اجزاء شامل ہوں، تو پھر ان اشیاکو فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ(5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (6)فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ} [المؤمنون:(7)]

ترجمہ:   اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں، مگر اپنی عورتوں پر یا اپنے ہاتھ کے مال باندیوں پر، سو ان پر نہیں کچھ الزام۔ پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوا سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے۔

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی نور اللہ مرقدہ معارف القرآن میں اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’ {فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ} ، یعنی منکوحہ بیوی یا شرعی قاعدہ سے حاصل شدہ لونڈی کے ساتھ شرعی قاعدے کے مطابق قضاءِ شہوت کے علاوہ اور کوئی بھی صورت شہوت پورا کرنے کی حلال نہیں، اس میں زنا بھی داخل ہے اور جو عورت شرعاً اس پر حرام ہے اس سے نکاح بھی حکمِ زنا ہے، اور اپنی بیوی یا لونڈی سے حیض و نفاس کی حالت میں یا غیر فطری طور پر جماع کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ یعنی کسی مرد یا لڑکے سے یا کسی جانور سے شہوت پوری کرنا بھی۔ اور جمہور کے نزدیک استمنا بالید یعنی اپنے ہاتھ سے منی خارج کرلینا بھی اس میں داخل ہے‘‘۔

(سورۃ المؤمون،آیت نمبر:7،6،5)

تبیین الحقائق میں ہے:

" لا يكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة لأنه ليس عينها منكرا وإنما المنكر في استعماله المحظور."

(کتاب السير،باب البغاة،ج:3،ص: 297،ط:بولاق مصر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويكره) تحريما (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية (وبيع ما يتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لأهل الحرب (لا) لأهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحا لقرب زوالهم، بخلاف أهل الحرب زيلعي.قلت: وأفاد كلامهم أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها نهر."

(قوله: تحريما) بحث لصاحب البحر حيث قال: وظاهر كلامهم أن الكراهة تحريمية لتعليلهم بالإعانة على المعصية ط (قوله: من أهل الفتنة) شمل البغاة وقطاع الطريق واللصوص بحر (قوله: إن علم) أي إن علم البائع أن المشتري منهم (قوله: لأنه إعانة على المعصية) ؛ لأنه يقاتل بعينه، بخلاف ما لا يقتل به إلا بصنعة تحدث فيه كالحديد، ونظيره كراهة بيع المعازف؛ لأن المعصية تقام بها عينها، ولا يكره بيع الخشب المتخذة هي منه، وعلى هذا بيع الخمر لا يصح ويصح بيع العنب. والفرق في ذلك كله ما ذكرنا فتح ومثله في البحر عن البدائع، وكذا في الزيلعي لكنه قال بعده وكذا لا يكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة؛ لأنه ليس عينها منكرا وإنما المنكر في استعمالها المحظور. قلت: لكن هذه الأشياء تقام المعصية بعينها لكن ليست هي المقصود الأصلي منها، فإن عين الجارية للخدمة مثلا والغناء عارض فلم تكن عين النكر، بخلاف السلاح فإن المقصود الأصلي منه هو المحاربة به فكان عينه منكرا إذا بيع لأهل الفتنة، فصار المراد بما تقام المعصية به ما كان عينه منكرا بلا عمل صنعة فيه، فخرج نحو الجارية المغنية؛ لأنها ليست عين المنكر، ونحو الحديد والعصير؛ لأنه وإن كان يعمل منه عين المنكر لكنه بصنعة تحدث فلم يكن عينه، وبهذا ظهر أن بيع الأمرد ممن يلوط به مثل الجارية المغنية فليس مما تقوم المعصية بعينه، خلافا لما ذكره المصنف والشارح في باب الحظر والإباحة، ويأتي تمامه قريبا (قوله: يكره لأهل الحرب) مقتضى ما نقلناه عن الفتح عدم الكراهة، إلا أن يقال: المنفي كراهة التحريم والمثبت كراهة التنزيه؛ لأن الحديد وإن لم تقم المعصية بعينه لكن إذا كان بيعه ممن يعمله سلاحا كان فيه نوع إعانة تأمل (قوله: نهر) عبارته: وعرف بهذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع الجارية المغنية والكبش النطوح والحمامة الطيارة والعصير والخشب الذي يتخذ منه العازف، وما في بيوع الخانية من أنه يكره بيع الأمرد من فاسق يعلم أنه يعصي به مشكل.والذي جزم به في الحظر والإباحة أنه لا يكره بيع جارية ممن يأتيها في دبرها أو ‌بيع ‌الغلام من لوطي وهو الموفق لما مر. وعندي أن ما في الخانية محمول على كراهة التنزيه والمنفي هو كراهة التحريم، وعلى هذا فيكره في الكل تنزيها، وهو الذي إليه تطمئن النفس؛ لأنه تسبب في الإعانة، ولم أر من تعرض لهذا، والله تعالى الموفق."

(کتاب الجھاد،باب البغاۃ،ج:4،ص: 268،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144202200491

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں