بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپوزر سے طلاق نامہ لکھوانے کی صورت میں طلاق کا حکم


سوال

میں نے دوسری شادی کرنی چاہی لیکن دوسری عورت نے کہا کہ: ”پہلی بیوی  کو طلاق دے دیں۔“ پھر ہم کمپیوٹر یعنی کمپوزنگ کرنے والے کے پاس گئے اور طلاق والے اسٹامپ پیپر پر میرا نام مع ولدیت، پہلی بیوی کا نام مع ولدیت، کتنے بچے ہیں اور شادی کو کتنے سال ہوئے ہیں، تمام تفصیلات لکھیں، پھر  ان تمام تفصیلات کے لکھنے کے بعد نیچے تین دفعہ اس طرح لکھا کہ:”میں نے فلاں (پہلے بیوی کا نام اور ابو کا نام) کو طلاق دے دی“ اور تینوں جگہ میں نے دستخط کردیئے، آیا یہ طلاق واقع ہوچکی ہے؟ جب کہ حقیقت میں میری پہلی بیوی کو طلاق دینے کی نہ نیت تھی اور نہ ہی ارادہ، بس دوسری عورت کو مطمئن یا راضی کرنا تھا۔

جواب

واضح رہےکہ  جب  کوئی تحریری طلاق نامہ تیارکروائے  تو  طلاق نامہ    میں طلاق کے  لکھتے ہی یا  کمپوزر  وغیرہ سے طلاق نامہ میں طلاق کے الفاظ  لکھواتے ہی شرعاً عورت پر طلاق  واقع ہوجاتی ہے، چاہے  وہ طلاق نامہ مرد عورت کو ارسال کرے یا نہ کرے ،نیز  اگر طلاق کے الفاظ صریح ہوں تو نیت کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ صرف  طلاق کے ظاہری الفاظ کا شرعاً اعتبار ہوتا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  جب سائل نے کمپوزر سے تین مرتبہ مذکورہ جملہ لکھوایاکہ ”میں نے فلاں (پہلے بیوی کا نام اور ابو کا نام) کو طلاق دے دی۔“تو ان جملوں کے لکھواتے ہی سائل کی پہلی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر   وہ سائل  پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی، چناں چہ  اب دونوں  کا ساتھ رہنا جائز نہیں ہے، نیز طلاق  کی صورت میں عورت کی  عدت طلاق کے بعد تین ماہواری ہوتی ہے (بشرط یه کہ عورت حاملہ نہ ہو،حاملہ ہونے کی صورت میں عدت بچہ کی پیدائش تک ہے)، لہذا سائل کی پہلی بیوی اپنی عدت مکمل کرنے  کے بعد   کسی اور مرد سےشرعاً  نکاح  کرسکتی ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

"﴿ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾." [البقرة: 230]

ترجمہ:”اگر بیوی کو تیسری طلاق دے دی  تو جب وہ عورت دوسرے  نکاح  نہ کرلے اس وقت تک وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی۔“ (بیان القرآن)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: وركنه ‌لفظ ‌مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية."

(‌‌كتاب الطلاق،230/3،ط:سعيد) 

بدائع الصنائع میں ہے:

"وكذا ‌التكلم ‌بالطلاق ‌ليس ‌بشرط فيقع الطلاق بالكتابة المستبينة وبالإشارة المفهومة من الأخرس لأن الكتابة المستبينة تقوم مقام اللفظ والإشارة المفهومة تقوم مقام العبارة."

(كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى الزوج،100/3، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت ‌مرسومة ‌يقع ‌الطلاق نوى أو لم ينو."

(كتاب الطلاق،مطلب في الطلاق بالكتابة،246/3، ط:سعيد)

بدائع الصنائع  میں  ہے:

"وأما ‌الطلقات ‌الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."

(كتاب الطلاق،فصل في حكم الطلاق البائن،187/3، ط: سعيد)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101629

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں