
اجتماعی قربانی کے حوالے سے یہ مسئلہ بتا دیں:
کوئی شخص ایک کمپنی میں سیلز کی جاب کرتا ہو جس کمپنی کی پالیسی ہو کہ یہاں رہتے ہوئے وہی کام باہر سے نہیں کر سکتے، اب وہ شخص اسی کمپنی میں رہتے ہوئے باہر سے کام شروع کر دے، کمپنی کا ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے۔ بعد میں وہ شخص ریزائن کر کے اپنا کام شروع کر دے اسی فیلڈ میں، اور ابھی تک جو لڑکے کمپنی میں کام کر رہے ہیں ان کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لے۔
اب چونکہ جو کام اس نے شروع کیا تھا کمپنی میں رہتے ہوئے اس میں پالیسی اور کانٹریکٹ کی خلاف ورزی بھی تھی اور ڈیٹا چوری بھی۔ اور ابھی تک جن لڑکوں کو اس نے شامل کیا ہوا ہے اپنے ساتھ تو ڈیٹا چوری اور کانٹریکٹ بریچ ان لڑکوں پر بھی لگتا ہے۔
تو کیا اس شخص کی اب کی آمدنی حلال ہے؟ اگر ایسا شخص ساتھ حصہ ڈالے تو کیا یہ جائز ہوگا؟
واضح رہے کہ کسی بھی ادارے میں کام کرنے والے ملازمین جب ملازمت کا معاہدہ کرتے ہیں تو کمپنی کے جائز پالیسيوں کی پاس داری کرنا ان پر لازم ہوجاتا ہے، نیز ملازم شرعاً ”امین“ بھی ہوتے، یعنی کمپنی کے اثاثہ جات، راز اور خفیہ معلومات یہ سب ان کے پاس امانت ہوتے ہیں، لہذا کسی ملازم کا کمپنی میں کام کرتے ہوئے معاہدہ کی خلاف ورزی کرنا یا کمپنی کے رازکو افشا کرنا وعدہ خلافی، خیانت اور دھوکہ دہی جیسے بڑے گناہوں کی وجہ سے ناجائز ہے، اس خیانت کے عوض جو آمدنی حاصل ہوگی وہ بھی حرام ہوگی، البتہ ملازم کا اصل کام جائز ہے اور وہ اپني ملازمت کے وقت میں مکمل حاضر رہ کر اپنا مفوضہ کام کررہا ہے تو اس کو کمپنی سے ملنے والی تنخواہ حرام نہیں ہوگی۔
لہذا صورت ِ مسئولہ میں اگر واقعتّا مذکورہ شخص کمپنی کی پالیسی کے خلاف ورزی کررہا ہے اور کمپنی کا ڈیٹا بغیر اجازت کسی اور کو دے رہا ہے تو اس کا یہ عمل ناجائز ہے، اس پر توبہ واستغفار لازم ہے، البتہ کمپنی میں جو اپنا جائز کام کررہا ہے اس کی آمدنی حرام نہیں ہے، اسی طرح اس نے جو اپنا کام شروع کیا ہے اگر وہ جائز کام ہے تو اس کی آمدنی بھی حرام نہیں ہے، ہاں اس میں جو گناہ کے کام کررہا ہے اس کا گناہ ہوگا، لہذا ایسے شخص کو اگر اجتماعی قربانی میں شامل کرلیا تو قربانی درست ہوجائے گی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل."
"(قوله: وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا..... (قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة."
(كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، مبحث الأجير الخاص،6/ 69، ط:سعيد)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144612100679
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن