
کمپنی مالکان نے مینیجر کو کہا کہ ایک چیز مارکیٹ میں کم بک رہی ہے، اسٹاک ختم کرنے کے لئے اس پر ڈسکاؤنٹ 40 فیصد کر دیں، اب اگر مینیجر ڈسکاؤنٹ کی اماؤنٹ سیلز مین کو زیادہ دے اور کچھ اپنا حصہ رکھ کر اسٹاک ختم کرنے کی کوشش کرے تو اس طرح کرنا جائز ہوگا؟
مینجر کی حیثیت کمپنی ملازم کی ہے، اور کمپنی ملازم اپنے عمل کا معاوضہ اپنی تنخواہ کی صورت میں لیتا ہے، اس کے علاوہ خفیہ طور پر کسی صورت میں بھی مال کے فروخت کرنے میں اپنا حصہ بطور کمیشن وصول کرنا مینجر کے لیے جائز نہیں ہے، ساتھ ہی مینجر کا اس طرح کا خفیہ عمل کمپنی کے ساتھ دھوکا دہی اور خیانت بھی ہے جو کہ کبیرہ گناہ ہیں۔
الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:
"اختلف الفقهاء في حكم شراء الوكيل لموكله من ماله الخاص به، أو من مال الذين لا تقبل شهادتهم للوكيل..فذهب الحنفية إلى أن الوكيل بالشراء لا يملك الشراء من نفسه لموكله، حتى ولو أذن له الموكل في ذلك، لأن الحقوق في باب البيع والشراء ترجع إلى الوكيل، فيؤدي ذلك إلى الإحالة، وهو أن يكون الشخص الواحد في زمان واحد مسلما ومتسلما، مطالبا ومطالبا، ولأنه متهم في الشراء من نفسه".
(شراء الوكيل لموكله سلعة مما يملكه الوكيل أو ممن لا تقبل شهادتهم له، ج: 45، ص: 51 ،ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)
شرح المجلۃ میں ہے:
"لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي."
(مادۃ: 97، ج: 1، ص: 264، ط: رشیدیة)
الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے:
"ويستحيل أن يكون الشخص الواحد في زمان واحد مسلما ومتسلما، طالبا ومطالبا، مملكا ومتملكا، مما يوجب أن يكون العقد من طرفين، لكل منهما إرادته وعبارته والتزامه، لا من شخص واحد ليس له إلا إرادة واحدة."
(النظريات الفقهية،تعريف العقد،العقد بإرادة منفردة، ج: 4، ص: 2925، ط: دار الفكر)
العقود الدریہ میں ہے:
"لأن الأجير أمين."
(كتاب العارية، ج: 2، ص: 83، ط: دار المعرفة)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144503101918
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن