
ایک ملازم کمپنی میں کام کرتا ہے کمپنی موبائل پیکج کے لیے 6000 دیتی ہے لیکن موبائل کمپنی ڈسکاؤنٹ دیتی ہے اور پیکج 5000میں دیتی ہے پہلے پیکج کی قیمت 6000 تھی کیا 1000 روپے ملازم کا رکھنا حلال ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر کمپنی کی طرف سے ملازم کو یہ رقم اس طور پر ملتی ہو کہ پیکج سے جتنی بچ جائے وہ واپس کرنا لازم ہے، تو ملازم کے لیے اضافی رقم اپنے پاس رکھنا جائز نہیں، البتہ اگر یہ رقم الاؤنس کے طور پر دی جاتی ہو چاہے خرچ ہو یا نہ ہو،تو پھر بچی ہوئی رقم رکھنا جائز ہوگا۔
مشکوۃ شریف میں ہے:
"عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."
(باب الغصب والعارية،الفصل الثاني،ج: 3،ص: 137،ط: البشري)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"(لا يحل مال امرئ ) أي: مسلم أو ذمي (إلا بطيب نفس) أي: بأمر أو رضا منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."
(باب الغصب والعارية،الفصل الثاني،ج: 5،ص: 1974،ط: دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711100948
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن