بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کی اجازت سے نقد خرید کر ادھار پر فروخت کرنا


سوال

1۔ ایک شخص کسی   کمپنی میں سیلز مین کے طور پر تنخواہ پر کام کرتا  ہے، بعض اوقات ایسا ہوتا ہےکہ کچھ  خریدارکمپنی سے مال   ادھار پر(قرض ) پر  لینا چاہتے ہیں،تو وہ سیلز مین  کمپنی کی اجازت سے خود  کمپنی سےمال  نقدی میں  خرید لیتا ہےاور پھر وہی مال خریدار کو اپنی طرف سے ادھار(قرض  )پر  بیچ  دیتا ہے۔

2۔کبھی کبھی یہ  سیلزمین نقد رقم  کسی انویسٹر سے لیتا ہے،تاکہ کمپنی سے مال خرید سکے،یعنی پہلےوہ   خریدار سے قیمت طے کرتا ہے (یاد  رہے کہ یہ یہاں محض بات کرتا ہے،بیع لاز م نہیں کرتا)  پھر انویسٹر سےپیسے لے کرکمپنی سے وہ مال خرید  کراپنے قبضے میں لیتا ہے،اور بعد میں وہ مال خریدار کو کچھ نفع کےساتھ  ادھار فروخت کردیتا ہے۔

اب  سوال یہ ہے کہ کیا دوسری صورت کا معاملہ شرعاً درست ہے؟ اگر درست نہیں تو اس کی جائز صورت کیا ہوگی؟ اور اس طریقے سے حاصل ہونے والے نفع کا حکم کیا ہے؟

جواب

1۔صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃًسیلز مین  کمپنی کی اجازت سے خود  کمپنی سےمال  نقدی میں  خرید لیتا ہےاور پھر وہی مال خریدار کو اپنی طرف سے ادھارپر  بیچ  دیتا ہے،تو یہ معاملہ شرعًا درست ہے۔

2۔نیز جب مذکورہ کمپنی کی جانب سے سیلزمین کو خود کسی چیز کی خریداری کی اجازت حاصل ہے تو اگر واقعۃً    سیلزمین  ادھار پر چیز خریدنے والے فرد سے اولاً وعدۂ بیع کرلے ، بعد ازاں کسی انویسٹر سے رقم لے کر مضاربت کی صورت میں وہ چیز نقد خرید کر اپنے قبضے میں لے لیتا ہو، اور پھر  باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے خریدار کو ادھار فروخت کرتا ہو، نیز مضاربت کی صورت میں مضاربت کی شرائط کی مکمل رعایت بھی رکھی جاتی ہو، تو ایسی صورت میں مذکورہ معاملہ شرعاً جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والا نفع حلال ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم."

(كتاب البيوع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه، ج:5، ص:146، ط:دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وأما الثالث: وهو شرائط الصحة فخمسة وعشرون: منها عامة ومنها خاصة، فالعامة.... والخاصة معلومة الأجل في البيع المؤجل ثمنه، والقبض في بيع المشترى المنقول."

(كتاب البيوع، ج:4، ص:505، ط:سعيد)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"مشروعية المضاربة ثابتة بالسنة الشريفة وإجماع الأمة والاحتياج إليها...المضاربة نوع شركة على أن يكون رأس المال من طرف والسعي والعمل من الطرف الآخر."

(الكتاب العاشر الشركات، الباب السابع في حق المضاربة، الفصل الأول، رقم المادة:1404، ج:3، ص:425، ط:دار الجيل)

منحۃ الخالق  علی ہامش البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: لم يجز إلا بإذن سيده) قال في النهر وينبغي أن يكون الأجير الخاص كذلك لا يحل أذانه إلا بإذن مستأجره."

(كتاب الصلاة، باب الأذان، ج: 1، ص: 279، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144705100040

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں