بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 محرم 1448ھ 13 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کی اشیاء اپنے پاس رکھے بغیر کمپنی کے لیے بطور کمیشن آن لائن پروموٹ کرنے کا حکم


سوال

آن لائن پلیٹ فارمز پر بطور کمیشن کے کام کرنا کیسا ہے؟ مطلب کمپنی کی چیز کی پرموشن وغیرہ کرکے کمپنی سے اجرت لینا اگرچہ وہ چیز جس کو بیچا جارہا ہے، وہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔

 

جواب

واضح رہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر کسی کمپنی کی چیزوں کی تشہیر (پرموشن) کر کے کمیشن کمانا شرعی لحاظ سے ”دلالی “یا”ایجنسی “ (سِمسارہ) کہلاتا ہے۔ اگر آپ کا کام صرف خریدار اور کمپنی کو آپس میں ملانا ہے،یعنی آپ گاہک کو چیز کی معلومات دے کر کمپنی تک لے آتے ہیں ،تو یہ کام کرنا شرعاً بالکل جائز ہےاور  اس محنت پر کمپنی سے پہلے سے طے شدہ کمیشن یا فیس لینا بھی حلال ہے، بس شرط یہ ہے کہ وہ چیز خود بھی حلال ہو اور اس کام میں کسی قسم کا دھوکہ نہ ہو۔

 نیز آن لائن کسی چیز کی تشہیر (پرموشن) کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ چیز آپ کے پاس موجود ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اس چیز کو خود نہیں بیچ رہے (یعنی آپ دکاندار یا مالک نہیں ہیں)، بلکہ آپ کمپنی کے نمائندے (وکیل) یا واسطہ (دلال) کے طور پر کام کر رہے ہیں،"لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ"(جو تمہارے پاس نہیں، اسے مت بیچو) کا حکم اس شخص کے لیے ہے جو خود سودا کر رہا ہو اور چیز اس کی ملکیت یا قبضے میں نہ ہو۔

یعنی کسی چیز پر قبضہ ہونا صرف اس شخص کے لیے ضروری ہے جو اس چیز کا مالک بن کر اسے آگے بیچے۔ چونکہ آپ صرف کمپنی کی چیز کی تشہیر کر رہے ہیں اور اصل خرید و فروخت تو کمپنی اور کسٹمر کے درمیان ہو رہی ہے، اس لیے آپ کو ملنے والا کمیشن یا منافع آپ کی محنت اور بھاگ دوڑ کا صلہ ہے، نہ کہ اس چیز کو بیچنے کا معاوضہ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وأجرة السمسار) هو الدال على مكان السلعة وصاحبها."

(كتاب البيوع،باب المرابحة والتولية،ج: 5،ص: 135،ط: دارالفكر)

فتح القدیر میں ہے:

وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لحكيم بن حزام (لا تبع ما ليس عندك)قلنا: المراد البيع الذي تجري فيه المطالبة من الطرفين وهو النافذ."

(کتاب البیوع،باب الاستحقاق،فصل في بيع الفضولي،ج: 7،ص: 51،ط: دارالفکر)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"إن لم يكن العامل معدا لأخذ الأجرة، فإن كان معدا لذلك كالملاح والخياط، والدلال، ونحوهم ممن يرصد نفسه للتكسب بالعمل، وأذن له صاحب المال في العمل، فله أجرة المثل، لدلالة العرف على ذلك."

(حرف الجیم،استحقاق الجعل وشرائطه،سماع الإذن بالعمل والعلم به،ج: 15،ص: 221،ط: دارالسلاسل)

وفیہ ایضاً:

"لا يصح لمسلم بيع الصليب شرعا، ولا الإجارة على عمله. ولو استؤجر عليه فلا يستحق صانعه أجرة، وذلك بموجب القاعدة الشرعية العامة في حظر بيع المحرمات، إجارتها، والاستئجار على عملها."

(حرف التاء،تصليب،ثانيا الأحكام المتعلقة بالصلبانالصليب في المعاملات المالية،ج: 12،ص: 91،ط: دارالسلاسل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100152

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں