بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کے ملازم کا کمپنی کے لیے خریداری کرنے پر دکاندار سے کمیشن لینا


سوال

جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ ہمارے یہاں جو بڑے کاروباری ادارے ہوتے ہیں، ان میں کچھ چیزوں کی خریداری کے لیے ملازم رکھے جاتے ہیں، جنہیں "پرچیزر" (خریدار) کہا جاتا ہے، یہ پرچیزر جن جگہوں سے خریداری کرتے ہیں، عام طور پہ وہاں سےا پنا کمیشن طلب کرتے ہیں، جو فروخت کرنے والا ان کو دے دیتا ہے اور اس کاروباری ادارے کے لیے جس کا پرچیزر ملازم ہے، اس کے نام پر جو انوائس بنواتا ہے، وہ اس شئے کی قیمت اوراس کی کمیشن پر مشتمل ہوتی ہے، اس طرح بیچنے والا قیمت زیادہ وصول کرتا ہے اور مال اس سے کم قیمت کا خریدار ادارے کو دیتا ہے، کیا اس کا یہ عمل کم تولنے اور کم ناپنے کے زمرے میں آتا ہے؟ اور کیا اس عمل پر قرآن میں مندرجہ ذیل آیات کا اطلاق ہوتا ہے؟

کم تولنا زمین میں فساد کا سبب بنتا ہے (الاعراف:85)(ہود:84، 85) (الشعراء:181، 182، 183)

کم تولنے کے خلاف اللہ تعالٰی کا واضح حکم اور اس کی مذمت (الرحمٰن:7، 8، 9) (المطففین:1، 2)

اس عمل کی وجہ سے ان کو زلزلے نے آپکڑا: سو وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے۔ (الاعراف:90، 91، 92)

جتنی قیمت لی ہے، اس سے کم قیمت کا مال دینے پر سخت چنگھاڑنے آپکڑا، گو یا وہ ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے (ہود:94، 95)

کم تولنے کے سبب انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑلیا۔ وہ بڑے بھاری دن کا عذاب تھا (الشعراء: 189)

انہیں زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں بیٹھے کے بیٹھے مردہ  ہو کر رہ گئے۔ (العنکبوت:37)

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس شخص کو کمپنی نے خریدار کی حیثیت سے اپنے ادارے میں رکھا ہے  وہ کمپنی کا ملازم ہے اور اس کی حیثیت کمپنی کے وکیل کی ہے اور  جو مال وہ کمپنی کے لیے جتنے کا خریدتا ہے، اس سے زیادہ اس کے لیے پیسے لینا جائز نہیں ہے،مال کی خریداری کی لاگت سے زیادہ کمپنی سے وصول کرناخیانت ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے، کمپنی کو زائد رقم واپس کر دینا ضروری ہے۔

اگر کمپنی کے لیے خریداری پر کوئی کمیشن ملتا بھی ہے، تو  اس پر لازم اور ضروری ہے کہ وہ اپنی کمپنی (جس کا وہ ملازم ہے)  کو وہ  پیسے لوٹائے۔

باقی سائل نے جن آیات کی طرف اشارہ کیا ہے، ان کا تعلق ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

تفسیر کبیر میں ہے:

"ولما كان المعتاد من أهل مدين البخس في المكيال والميزان، دعاهم إلى ترك هذه العادة فقال: ولا تنقصوا المكيال والميزان والنقص فيه على وجهين: أحدهما: أن يكون الإيفاء من قبلهم فينقصون من قدره. والآخر: أن يكون لهم الاستيفاء فيأخذون أزيد من الواجب وذلك يوجب نقصان حق الغير، وفي القسمين حصل النقصان في حق الغير."

(سورة هود، ج:18، ص:384، ط:دار إحياء التراث العربي)

معالم التنزیل میں ہے:

"{ألا تطغوا في الميزان} [الرحمن: 8] أي لا تجاوزوا العدل.

وقال الحسن وقتادة والضحاك: أراد به الذي يوزن به ليوصل به الإنصاف والانتصاف، وأصل الوزن التقدير. ألا تطغوا: يعني لئلا تميلوا وتظلموا وتجاوزوا الحق في الميزان. [9] {وأقيموا الوزن بالقسط} [الرحمن: 9] بالعدل، وقال أبو الدرداء وعطاء: معناه أقيموا لسان الميزان بالعدل."

(سورة الرحمن، ج:6، ص:917، ط:دار السلام)

 بدائع الصنائع میں ہے: 

"المقبوض في يد الوكيل بجهة التوكيل بالبيع والشراء وقبض الدين والعين وقضاء الدين - أمانة بمنزلة الوديعة، لأن يده يد نيابة عن الموكل بمنزلة يد المودع، فيضمن بما يضمن في الودائع، ويبرأ بما يبرأ فيها، ويكون القول قوله في دفع الضمان عن نفسه."

(كتاب الوكالة، ج:6، ص:34، ط:دار الکتب العلمیة)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100061

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں