
چائے کی پتی کے ایک کلو والے پیکٹ کے ساتھ کمپنی والے دکاندار کو ایک کپ یعنی پیالی دیتے ہیں، جو کہ پتی کے پیکٹ کے ساتھ ملحق ہوتا ہے اور لکھا ہوتا ہے ایک کلو پتی کے ساتھ ایک کپ فری۔
کیا یہ کپ دکاندار اپنے پاس رکھ سکتا ہے یا گاہک کو دینا لازم ہے؟
اگر یہ کپ گاہک کے لیے ہو تو دکاندار کپ اپنے پاس رکھ کر پتی کی رقم میں کچھ کمی کر کے صرف پتی گاہک کو دے تو پھر کیا حکم ہے؟
اگر کوئی کمپنی اپنے پروڈکٹ کے ساتھ کوئی چیز تحفے اور ہبہ کے طور پر لگاتی ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس انعامی چیز کو دیکھ کر گاہک کمپنی کی پروڈکٹ کی طرف راغب ہوں اور یہ چیز کثرت سے خریدیں اور دکاندار کا اس کپ کو مفت میں اپنے پاس رکھ لینا یا اپنے پاس رکھ کر قیمت کم کر دینا کمپنی کے مقصد میں مُخل ہے؛ اس لیے دکاندار کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ کپ اپنے پاس مفت میں رکھ لے یا کپ اپنے پاس رکھ کر قیمت میں کمی کرے، دکاندار پر لازم ہے کہ جس طرح کمپنی نے پتی کے ساتھ کپ لگایا ہے وہ اسی طرح گاہک کو فروخت کر کے حوالے کرے۔
فتح القدیر میں ہے:
"(قوله ويجوز للمشتري أن يزيد للبائع في الثمن، ويجوز للبائع أن يزيد للمشتري في المبيع ويجوز أن يحط من الثمن) وسنذكر شرط كل منهما (ويتعلق الاستحقاق بجميع ذلك) من المزيد عليه والزيادة حتى كان للبائع حبس المبيع إلى أن يستوفي الزيادة إذا كان الثمن حالا، وليس للمشتري أن يمنع الزيادة ولا مطالبة البائع بتسليم المبيع قبل إعطائها، ولو سلمها ثم استحق المبيع رجع بها مع أصل الثمن، وفي صورة الحط للمشتري مطالبة البائع بتسليم المبيع إذا سلم الباقي بعد الحط."
(كتاب البيوع ، باب المرابحة والتولية ، جلد : 6 ، صفحه : 519 ، طبع : دار الفكر)
الأشباه والنظائر لابن نجيم ہے:
"القاعدة الثانية: الأمور بمقاصدها كما علمت في التروك."
(ص:12، الفن الأول، القاعدۃ الثانیة، ط: سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100740
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن