
حکومت کی طرف سے مزدور کے لیے ماہانہ تنخواہ چالیس ہزار روپے مقرر ہے، روزانہ آٹھ گھنٹے دیہاڑی کے حساب سے ، اب اگر کوئی کمپنی مزدور کو حکومت کی مقرر کردہ تنخواہ سے کم دیتی ہے تو کیااس کمپنی کا مالک گناہ گار ہوگا یا نہیں یا کوئی کمپنی مزدور سے حکومت کے مقرر کردہ ٹائم سے زیادہ کام لےتو وہ گناہ گار ہوں گے یا نہیں ہے، اگر گناہ گار ہیں تو مالک جو منافع حاصل کرتا ہے وہ حلال ہوگا یا حرام؟
صورتِ مسئولہ میں کسی کمپنی اور ملازم کے درمیان باہمی رضامندی سے جو کام کا وقت طے ہو اور اس کے عوض جو تنخواہ طے ہو، ملازم اتنے وقت کام کرنے کی صورت میں اسی طے شدہ تنخواہ کا حق دار ہوتا ہے، خواہ وہ زیادہ ہو یا کم ہو، تاہم کمپنی کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی صحت اور ان ضروریات کا خیال رکھے، اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر حکومت نے سرکاری ملازمین کے علاوہ دیگرملازمین کےلیےبھی کم از کم تنخواہ اور کام کے اوقات کی حد مقررکی ہے تومالکان کو اس کی پاسداری کرنی چاہےاور ملازم کو اتنا وقت ہی کام لےکر ، کم ازکم اتنی تنخواہ دینی چاہے ، لیکن اگر کوئی کمپنی یا ادارہ اس پر عمل نہ کرتا ہو اور ملازمین اپنی رضامندی سے عقد کے وقت اس اجرت سےکم پر یا اس وقت سے زیادہ پر راضی ہوجاتےہوں تو فریقین کے درمیان طے شدہ معاملہ ناجائز نہیں ہوگا، اور اس کمپنی کی آمدن بھی اس بنیاد پر حرام نہیں ہوگی ۔
سنن ابی داؤد میں ہے:
"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الصلح جائز بين المسلمين -زاد أحمد- إلا صلحا أحل حراما أو حرم حلالا". وزاد سليمان بن داود: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "المسلمون على شروطهم".
(كتاب الأقضية، باب في الصلح،5/ 446، ط:دار الرسالة العالمية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل."
"(قوله: وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا..... (قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة."
(كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، مبحث الأجير الخاص، 6/ 69، ط:سعيد)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144708101555
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن