
ہماری برادری کی جماعت ہے جس کا نام ناگوری جماعت پاکستان ویلفیئر ہے جو اپنی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے ہماری برادری تقریباً پندرہ ہزار پر مشتمل ہے جو کراچی سمیت اندرون سندھ میں بھی مقیم ہے،ہماری جماعت میں مختلف کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں جن میں سے ایک زکوٰۃ کمیٹی بھی ہے جو برادری کے صاحب حیثیت لوگوں سے زکوٰۃ لے کر برادری کے مستحق لوگوں پر خرچ کرتی ہے جس میں ماہانہ وظائف علاج،شادی بیاہ اور تعلیمی اخراجات کے ساتھ مستحق لوگوں کو گھر فراہم کرنا بھی شامل ہے ان اخراجات کے لیے ہمیں اپنے پاس ایک سال کے اخراجات رکھنے ہوتے ہیں کیوں کہ ماہانہ وظا ئف دینے ہوتے ہیں تو کیا اب جو زکات آتی ہے اسے ایک سال سے زائد عرصے کے لیے روک سکتے ہیں کیوں کہ اگر ہم ماہانہ بنیاد پر ایک مقررہ رقم اپنے پاس نہ رکھیں تو بعض دفعہ سال کے درمیان میں بھی کچھ مستحق آجاتے ہیں تو اسی صورت حال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اور زکات جو ہمارے پاس امانت ہوتی ہے اسے کیا ایک سال سے زائد عرصے کے لیے روک سکتے ہیں؟ کیوں کہ بعض دفعہ زکات سالانہ اخراجات سے زائد بھی جمع ہو جاتی ہے تو کیا اس رقم کو ایک سال میں ہی خرچ کرنا ضروری ہے؟
ہمارا زکات لینے کا طریقہ یہ ہوتا کہ جب ہماری زکات کمیٹی، لوگوں کے پاس جا کر زکات لیتی ہے تو لوگ صرف اپنی زکات لکھوا دیتے ہیں جو پورے سال میں آہستہ آہستہ کمیٹی جمع ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ہمیں ماہانہ وظائف کے لیے گذشتہ سال کی جو زکات ہمارے پاس ہوتی ہے، ہم اس میں سے خرچ کرتے ہیں تو کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟
مثال کے طور پر گزشتہ سال کے ہمارے پاس دو کروڑ روپے جمع ہیں اور آئندہ سال کا خرچہ ڈیڑھ کروڑ ہے اور آئندہ سال کی ہمارے پاس لوگوں نے جو زکات لکھوائی ہے وہ تقریباً تین کروڑ ہے تو کیا ان تمام رقم کو ایک سال میں خرچ کرنا ضروری ہے یا آئندہ سال کے وظائف کے لیے بھی کچھ رقم رکھ سکتے ہیں؟
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ برادری کے مستحق لوگوں کو زکات کی مد میں گھربھی دلاتے ہیں جو ان کے حوالے بھی کر دیے جاتے ہیں اور ان کے نام ٹرانسفر بھی کر دیے جاتے ہیں مگر فائل ان کے حوالے نہیں کی جاتی کیوں کہ بعض لوگ اپنی بری عادات کی وجہ سے گھر کو فروخت کر دیتے ہیں اور پیسہ ضائع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے گھر کے افراد بےگھر بےیار و مددگار ہو جاتے ہیں اور پھروہ دوبارہ جماعت کے پاس گھر مانگنے آ جاتے ہیں یا کچھ بیواؤں یا طلاق یافتہ کو بھی گھر دیتے ہیں ان کو فائل اس لیے نہیں دیتے کہ کچھ عورتیں جن کے گھر میں کوئی مرد نہیں ہوتا، ان کو فائل اس لیے نہیں دیتے تاکہ کوئی ان کے ساتھ فراڈ وغیرہ نہ کر لے۔
اس بنا پر فائل ہم اپنے پاس رکھ لیتے ہیں تاکہ ان عورتوں کی زکات کمیٹی دیکھ بھال بھی کر سکے تو کیا یہ طریقہ صحیح ہے ؟
تیسرا مسئلہ یہ ہےکہ زکات کی مد میں ہماری کمیٹی کے پاس کچھ پلاٹ بھی ہیں جو تقریباً دس بارہ سال سے کمیٹی کے پاس ہیں اور آج تک کسی کو نہیں دیے گئے حالانکہ آج ان کی قیمت کئی گنا بڑھ چکی ہے تو کیا جن لوگوں نے زکات میں یہ پلاٹ دیے تھے ان کی زکوات ادا ہو گئی؟ اگر نہیں تو اب اس کا کیا کیا جائے؟ اب کیا ایک پلاٹ فروخت کر کے اس کی رقم سے دوسرے پلاٹوں پر گھر تعمیر کر کے مستحق لوگوں کو دے سکتے ہیں یا ان تمام پلاٹوں کو فروخت کر کے کسی اور جگہ جہاں کچھ سستے گھر مل جائیں وہاں لوگوں کو گھر بنا کر دے سکتے ہیں؟ یا کسی اور جگہ ان پیسوں سے گھر خرید کر دے سکتے ہیں ؟
صورت مسئولہ میں جماعت کے منتظمین کو چاہیے کہ زکات کی مد میں جمع شدہ تمام رقم سال پورا ہونے سے پہلے مستحقین میں تقسیم کردیا کریں، اس کے لیے ماہانہ بنیاد پر مستحقین کو رقم دینے کی ترتیب بنانے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے،آئندہ سال کے وظائف کو آئندہ سال کی زکات سے ادا کیا جائے ،کیوں کہ بغیر کسی عذر کے زکات کی رقم کی ادائیگی میں سال سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے، البتہ اگر کبھی سال پورا ہونے کے بعد کچھ رقم بچ جائےتو جلد از جلد اسے بھی مستحقین میں تقسیم کردینا چاہیے۔اور اگر جماعت میں زکات کے مستحق افراد کم ہیں جس کی وجہ سے زکات ضرورت سے زیادہ جمع رہتی ہے تو جماعت کے لوگوں کے علاوہ دیگر مستحقین افراد کو بھی زکات کی رقم دے دی جائے ۔
مستحق کو گھر کا مالک بنانے کے بعد گھر کی فائل اس کے حوالے کرنا ضروری ہے،زکات کی ادائیگی کے جملہ شرائط میں مستحق کو اس چیز کا مالک بناکر اس میں تصرف کا مکمل حق دینا بھی ضروری ہے،لہذا جس طرح گھر کا قبضہ دینا ضروری ہے اسی طرح فائل کاقبضہ دینا بھی ضروری ہے،فائل حوالے نہ کرنا تاکہ مستحق اس گھر میں صرف رہائش اختیار کرے ،آگے فروخت نہ کرسکے،یہ اس کے اختیارات کو محدود کرنا ہے اور شرعا تملیک کے منافی ہے،اس طرح گھر دینے سے شرعا زکات ادا نہیں ہوگی، البتہ مستحق گھر کا قبضہ کرنے بعد اگر وہ خود رضامندی سے گھر کی فائل منتظمین کے حوالے امانت کے طور پر خردے، تو یہ شرعا جائز ہے۔
جو پلاٹ اب تک مستحقین کو نہیں دیے گئے ہیں،ان کے دینے والوں کی زکات تاحال ادا نہیں ہوئی ہے۔باقی کمیٹی از خود کوئی پلاٹ فروخت کرکے اس رقم سے دوسرے مکانات بنا کر مستحقین کونہیں کرسکتی، البتہ اگر مالکان سے اجازت لے کر پلاٹ فروخت کرے، اور حاصل شدہ رقم سے دیگر پلاٹوں پر گھر تعمیر کرکےیا کسی اور جگہ سستے گھر خرید یا تعمیر کرکے مستحقین کو حوالے کرے، تو شرعا اس کی اجازت ہوگی۔
الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:
"(فيأثم بتأخيرها) بلا عذر......
قوله فيأثم بتأخيرها إلخ) ظاهره الإثم بالتأخير ولو قل كيوم أو يومين لأنهم فسروا الفور بأول أوقات الإمكان. وقد يقال المراد أن لا يؤخر إلى العام القابل لما في البدائع عن المنتقى بالنون إذا لم يؤد حتى مضى حولان فقد أساء وأثم اهـ فتأمل."
(کتاب الزکاۃ،ج2،ص272،ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
"(هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم (جزء مال) خرج المنفعة، فلو أسكن فقيرا داره سنة ناويا لا يجزيه....
(کتاب الزکاۃ،ج2،ص257،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101368
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن