
کیا لڑکیوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا مخلوط تعلیمی ماحول میں (جہاں لڑکے اور لڑکیاں ایک ہی کلاس روم میں بیٹھتے ہیں)قطعی طور پر حرام ہے خواہ وہ سیکولر ہو یا اسلامی ؟ یہاں تک کہ آج کے جدید اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں، جہاں ہاسٹل کی سہولیات الگ الگ ہیں، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں ہوں بلکہ اسے اسلامی اور سیکولر دونوں طرح سے اہم سمجھتا ہوں، لیکن سوال coeducation(لڑکے لڑکیوں کے مخلوط نظام تعلیم) پر ہے۔
یہ سوال خاص طور پر ان حالات میں ہے جہاں آس پاس صرف لڑکیوں کے لیے کوئی اسکول کالج یا یونیورسٹی نہیں ہے، لڑکی اور اس کے گھر والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ لڑکوں کے ساتھ کھلے عام نہیں ملے گی، لڑکی مکمل برقعہ، نقاب، ہاتھ کے دستانے پہنتی ہے اور کم از کم لفظی طور پر شائستگی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتی ہے لیکن ہم کیسے اعتبار کریں؟ ماضی کے بہت سے پرہیزگار لوگ جن کے قصے میں نے علماء سے سنے ہیں جو برسیسا، شیخ عبداللہ اندلسی وغیرہ کے بارے میں سناتے تھے جن کو شیطان نے بھٹکا دیا تھا اس لیے ہم ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔مجھے مختلف نامور علماء سے معلوم ہوا ہے جو اپنے تقویٰ اور احتیاط کی وجہ سے مشہور ہیں، جو نہ تو مغرب سے متاثر ہیں اور نہ ہی لبرل یا جدید نظریات سے کوئی مالی امداد حاصل کرتے ہیں، کہ ایسی مخلوط تعلیم لڑکیوں کے لیے ہر حال میں قطعاً حرام ہے، خواہ نیتوں یا حدود و قیود سے بالاتر ہو اور شریعت کے لحاظ سے صرف لڑکوں کے ذہن میں ہے۔ البتہ مغرب کے زیر اثر بعض لوگ اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر لڑکیوں کے لیے الگ سے کوئی ادارہ دستیاب نہ ہو تو یہ جائز ہو جاتا ہے اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ افضل ہے۔ مغربی افکار سے متاثر بعض جدید مولانا، علماء اور مفتیان یہ بھی کہتے ہیں کہ ایسی صورتوں میں یہ جائز ہے، خاص طور پر اگر لڑکی حجاب کرتی ہو اور آزادانہ اختلاط میں مشغول نہ ہو۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی بہت سی خواتین عوامی کرداروں میں حصہ لیا، جیسا کہ لڑائی، نگہداشت، صحابہ کی تعلیم و تبلیغ، یہاں تک کہ گھروں اور عوامی مقامات پر جانا۔ ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ آج کے علماء ان حقائق کو چھپاتے ہیں اور بلا جواز خواتین کو گھر سے باہر کام کرنے یا تعلیم حاصل کرنے سے روکتے ہیں۔ دوسری طرف، میں نے معتبر علماء سے جو سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان مثالوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر استعمال کرنا شیطان کی چال ہے کہ اسلامی خاندانی نظام کو توڑنے کے لیے( جیسا کہ مغرب میں ہوا) عورتوں کو ان کے حفاظتی ماحول سے نکال کر آزادی اور تعلیم کے جھوٹے لیبل کے تحت انہیں دنیاوی خطرات اور استحصال سے دوچار کرنا اور ان کی حیا، ایمان کو تباہ کرنا، جیسا کہ اب یونیورسٹیوں کے کالجوں میں پڑھایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ، لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا والدین کو اپنی بیٹیوں کو کسی دوسرے شہر، ریاست یا ملک میں بھیجنے کی اجازت ہے اگر لڑکیوں کے لیے صرف یونیورسٹی یا کالج دور ہو، اور وہ کسی محرم کے بغیر ہوسٹل یا دیگر رہائش گاہ میں رہ رہی ہو۔ میں نے جو کچھ سیکھا ہے اس سے لڑکوں اور مردوں کے لیے شرعی شرائط میں یہ جائز ہے کیونکہ انہیں کمائی اور ذمہ داریوں کے لیے باہر جانا پڑتا ہے۔ لیکن لڑکیوں کے لیے یہ تمام شرائط کے تحت حرام ہے، چاہے یہ ادارہ صرف لڑکیوں کے لیے کسی دوسرے شہر میں ہو۔ اس لیے میں اس پر تفصیلی فتویٰ کی درخواست کرتا ہوں:
1:کیا لڑکیوں کے لیے ہر صورت میں مخلوط تعلیم حرام ہے، بشمول جب لڑکیوں کے لیے کوئی متبادل نہ ہو اور اگر اجازت ہو تو براہ کرم تفصیل سے بتائیں کہ کب اور کہاں؟
2: براہ کرم تفصیل سے بتائیں کہ تعلیمی انسٹی ٹیوٹ ،مارکیٹ پبلک یا پرائیویٹ جگہ پر بالکل آزاد اختلاط و ملاپ سے کیا مراد ہے؟
3: کیا لڑکی کا تعلیم کی غرض سے ایسے اداروں میں جانا جائز ہے جبکہ لڑکی اپنے آپ کو مکمل طور پر ڈھانپے ہوئے ہو اور یہ دعویٰ کرے کہ وہ لڑکوں یا مرد اساتذہ کے ساتھ نہیں ملے گی؟
4: کیا والدین اپنی بیٹیوں کو کسی دوسرے شہر/ریاست/ملک بھیج سکتے ہیں اگر آس پاس لڑکیوں کے لیے کوئی تعلیمی انسٹی ٹیوٹ نہیں ہے۔
5: اس بات کی وضاحت درکار ہے کہ آیا آج کل باہر کام کرنے والے یا پڑھانے والے ساتھیوں کی مثالیں یا مرد و عورت کے درمیان پائی جانے والے آج کل کی ہم آہنگی خواتین کی عوامی مصروفیت کے جواز کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں؟
6:یہ بھی بتادیں کہ جو عورتیں عہد نبوی یا خلفائے راشدین کے زمانے میں کام کرتی تھیں وہ صرف جنگ کے زمانے میں تھیں یا عام وقت یا حالات میں بھی کام کرتی تھیں یا اپنے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے کام کرتی تھیں ؟
7:یہ بھی واضح کریں کہ چونکہ آج ہوم اسکولنگ اور آن لائن تعلیم باآسانی دستیاب ہے تو اس صورت میں یہ کہنا کہ ہوم اسکولنگ یا آن لائن کلاسز کا معیار کو ایجوکیشن اسکول کالجز یونیورسٹی سے بہتر یا مساوی نہیں ہے، اس کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ کیونکہ دیگر کم معیار کے ہیں جیسا کہ آن لائن تعلیم یا گھر پر مبنی کلاسز اور پرائیویٹ امتحان لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے دستیاب ہیں؟
8: آن لائن تعلیم یا کلاسز میں، کیا لڑکی یوٹیوب یا دیگر تعلیمی پلیٹ فارمز کے ذریعے آن لائن کلاسز میں شرکت کر سکتی ہے جہاں ایک پلیٹ فارم پر مرد استاد آن لائن پڑھا رہا ہو؟ کیا یہ لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لیے جائز ہے یا بلوغت کی عمر کے بعد اسے آنکھوں سے زنا کے زمرے میں شمار کیا جائے گا؟
1:بصورتِ مسئولہ دینِ اسلام نے عورت کی تعلیم پر نہ پابندی لگائی ہے اور نہ ہی اُسے مطلقاً ناجائز یا حرام قرار دیا ہے، شریعت نے عورت کو بقدرِ ضرورت تعلیم حاصل کرنے کا نہ صرف حق دیا ہے، بلکہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے لڑکیوں کے لیے بنیادی دینی علوم کا انتظام کرنا ضروری ہے اور ضروری عصری علوم کی تعلیم دلانا مستحسن ہے،لیکن حجاب و پردہ سے متعلق شرعی شرائط و ضوابط اور دیگر شرعی احکامات کا لحاظ کرنا بھی ضروری ہے۔
لہذاتعلیمی نظم سے متعلق شرعی حکم اور اخلاقی و معاشرتی تقاضہ تو یہ ہے کہ لڑکیوں اورلڑکوں دونوں کا تعلیمی نظام اختلاط سے پاک اور شرعی پردے کے ماحول میں ہو، جہاں لڑکوں کو مرد اور لڑکیوں کو خواتین معلمات پڑھائیں،اسی وجہ سے CoEducation(لڑکے لڑکیوں کا مخلوط نظام تعلیم)شرعی تناظر میں ایک غیراسلامی اور غیرشرعی نظام تعلیم ہے، مسلمان( خواہ لڑکا ہو یا لڑکی) کے لیے مخلوط نظام کے تحت تعلیم حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، کیوں کہ اِس میں نامحرم مرد و عورت کےاختلاط ،ناجائز تعلقات اور بےپردگی سمیت بے شمار خرابیاں پائی جاتی ہیں، لہذا اس سے حتی الوسع اجتناب لازم ہے۔
اورموجودہ دور میں اِس مخلوط نظام تعلیم کے متبادل نہ ہونے کا شکوہ بھی درست نہیں ؛ آج کل بے شمار ایسے ادارے موجود ہیں جہاں کا نظام تعلیم بھی درست ہے، اور عورت اپنی بنیادی اور ضروری تعلیم بھی بسہولت حاصل کرسکتی ہے۔ نیز گھرکی چار دیواری میں ہوم اسکولنگ(جس میں خاتون معلمہ سمیت دیگر شرعی شرائط کا لحاظ رکھا جائے یہ) بھی اِس کو ایجوکیشن سسٹم کا بہتر متبادل ہے۔
2:آزادانہ اختلاط سے مراد یہ ہے کہ غیر محرم مرد و عورت بلاضرورت اور بغیر کسی شرعی عذر کے میل جول رکھیں یا ایک جگہ بے تکلف ایسے گھل مل جائیں کہ دونوں کے درمیان کوئی پردہ نہ رہے، یہ شریعت میں سخت ممنوع ہے، کیونکہ یہ فتنہ، بے حیائی، اور زنا جیسے کبیرہ گناہوں کا پیش خیمہ بنتا ہے۔
3:اگر مذکورہ ادارے کا تعلیمی نظم و نسق خلافِ شرع نہ ہوتو جائز ہے،بصورتِ دیگر جائز نہیں ہے۔
4:لڑکیوں کا تعلیمی غرض سے بغیر محرم کے سفر شرعی کرنا یا کسی دوسرے شہریا ملک وغیرہ میں جاکر ہاسٹل میں رہنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
5:یہ بھی شرعاً جائز نہیں ہے، شریعت کے خلاف کام کرنے کے لیےمعاشرہ میں رائج غیرشرعی طرزِ عمل کو دلیل بنانے کے مترادف ہے۔
6: صحابیات رضی اللہ عنہن کی میدان جنگ میں شرکت کےجو واقعات ملتے ہیں، وہ درحقیقت زخمیوں کے دیکھ بھال اور مرہم پٹی کی شدید ضرورت کے پیش نظر تھی، اُن کا میدانِ جنگ میں آنا باقاعدہ دشمن سے مقابلے کی غرض سےنہ تھا، اسی لیےشریعت کی رو سے عورتوں پر جہاد کے لیے نکلنا ضروری نہیں ہےاور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے لیے "حج" کو جہاد کے برابر قرار دیا ہے۔صحیح بخاری میں حدیث ہے:
"عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها، قالت: قلت يا رسول الله، ألا نغزو ونجاهد معكم؟ فقال: «لكن أحسن الجهاد وأجمله الحج، حج مبرور»، فقالت عائشة «فلا أدع الحج بعد إذ سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم»."
(باب حج النساء،رقم الحديث:1861، ج:3، ص:19، ط:دارطوق النجاة)
ترجمہ:" حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم (عورتیں) آپ کے ساتھ جہاد اور لڑائی میں شریک نہ ہوں؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں، البتہ بہترین اور خوب صورت جہاد حج ہے، یعنی مقبول حج۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: چناں چہ میں حج نہیں چھوڑتی جب سے میں رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی۔ "
باقی عہدِ نبوی ﷺ اور عہدخلفائے راشدین میں عورتیں گھر سے باھر کام کاج کی غرض سے نہیں نکلتی تھیں، عام حالات میں تو نماز جیسی اہم عبادت کے لیے بھی مسجد نبوی میں رسول اللہ ﷺ کی اقتداء کے بجائے گھر کی چار دیواری میں نماز کی ادائیگی کو مستحسن قرار دیا گیا تھا، چہ جائیکہ دنیا کمانے کے لیے یا کسی دوسرے غیرضروری کام کے لیے وہ گھروں سے باھر نکلتیں۔
7-8:ہوم اسکولنگ یا آن لائن تعلیم مخلوط نظام تعلیم کا ایک بہتر متبادل ہے، بشرطیکہ اس میں بھی پردہ و دیگر شرعی شرائط کا لحاظ رکھا جائے۔ یعنی اگر خاتون معلمہ کی سہولت میسر ہو تو نامحرم مرد معلم کے ذریعہ لڑکی کو ہوم اسکولنگ یا آن لائن دلوانا جائز نہیں ہے،البتہ اگر بوجوہ عورت معلمہ یا لڑکی کے محرم معلم کی خدمات حاصل نہ ہوسکے اور نامحرم مرد مُعلمین حضرات سے تعلیم حاصل کرناناگزیر ہو توضرورت کی وجہ سے مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ کسی قدر گنجائش ہے:
۱۔مرد مُعلم سے آن لائن کلاس لینے والی طالبہ اگر بالغہ یا قریب البلوغ ہو تو ایک اکیلی طالبہ کے تنہائی میں مُعلم مرد سے تعلیم دلوانے سےمکمل اجتناب کیا جائے، کیوں کہ آن لائن اکیلی طالبہ کو پڑھانا حکماً خلوت ہے اور فتنے میں واقع ہونے کا اندیشہ ہے، لہذا ایک وقت میں صرف ایک طالبہ کو آن لائن پڑھانا فتنہ کے احتمال کی وجہ سے درست نہیں ہوگا، ہاں اگر اس ایک طالبہ کے ساتھ دوران درس اس طالبہ کا کوئی محرم مرد یا کوئی سرپرست خاتون وغیرہ موجود ہو تو یہ صورت جائز ہوگی۔نیز جائز صورتوں میں بھی دورانِ درس غیر ضروری باتوں سے اور ہنسی مذاق سے قطعی طور پر اجتنا ب کرنا ضروری ہوگا۔
۲۔ آن لائن تعلیم وتد ریس کے جائز ہونے کے لیے ایک بنیادی شرط یہ بھی ہے کہ تعلیم محض صوتی یعنی صرف آواز ( آڈیو کال ) کے ذریعہ ہو، ایک دوسرے کی تصویر نظر نہ آئے یعنی تعلیم کیمرے (ویڈیوکال وغیرہ )کے ذریعہ نہ ہو۔
۳۔لڑکیوں کے عقائد اور دینی اعمال واخلاق میں بگاڑ کا باعث بننے والےفاسد العقيده مُعلم مرد حضرات سے اجتناب کرنا بھی لازم ہے۔
۴۔ایسی تعلیم جس کو حاصل کر کے مسلمان بچی خواتین کے مسائل و معاملات بالخصوص گھریلو خانہ داری کے لیے کارآمد نہ بنے بلکہ اُس تعلیم و ہنر کا بنیادی مقصد محض دہن دولت، نوکری چاکری اور عہدہ وغیرہ ہو تو ایسی تعلیم سے اجتناب بھی لازم ہے اور اِس کے لیے آن لائن نامحرم مرد معلمین سے استفادہ کی بھی اجازت نہیں ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
" وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ " (سورۃ الاحزاب :33)
ترجمہ:” اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو ۔“(بیان القرآن)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
وعن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان ."
(كتاب النكاح، الفصل الثاني، رقم الحديث:3118، ج:2، ص:935، ط:المكتب الإسلامي)
ترجمہ:” حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا :جب بھی کوئی شخص کسی تنہا عورت کے پاس ہو تو تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ “
وفیہ ایضا:
"وعن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إياكم والدخول على النساء."
(كتاب النكاح، الفصل الأول، رقم الحديث:3102، ج:2، ص:932، ط:المكتب الإسلامي)
ترجمہ: ”حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :عورتوں کے پاس داخل ہونے سے پرہیز کرو۔“
صحیح مسلم میں ہے:
"عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: لايحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم."
(كتاب الحج، باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره، رقم الحدیث:1338، ج:1، ص:102، ط: قدیمی)
ترجمہ:”نبی ﷺ نے فرمایا :اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین راتوں کی مسافت کے بقدر سفر کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔“
تفسیر قرطبی میں ہے:
"قوله تعالى: (وقرن في بيوتكن ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى) فيه أربع مسائل... الثانية- معنى هذه الآية الأمر بلزوم البيت، وإن كان الخطاب لنساء النبي صلى الله عليه وسلم فقد دخل غيرهن فيه بالمعنى. هذا لو لم يرد دليل يخص جميع النساء، كيف والشريعة طافحة بلزوم النساء بيوتهن، والانكفاف عن الخروج منها إلا لضرورة، على ما تقدم في غير موضع. فأمر الله تعالى نساء النبي صلى الله عليه وسلم بملازمة بيوتهن، وخاطبهن بذلك تشريفا لهن، ونهاهن عن التبرج، وأعلم أنه فعل الجاهلية الأولى."
(سورة الأحزاب، ج:14، ص:178-179، ط:دار الكتب المصرية)
تفسیرِ ابن کثیر میں ہے:
"فقوله تعالى:وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهنأي عما حرم الله عليهن من النظر إلى غير أزواجهن، ولهذا ذهب كثير من العلماء إلى أنه لا يجوز للمرأة أن تنظر إلى الرجال الأجانب بشهوة ولا بغير شهوة أصلا."
(سورة المؤمنون، الآية:31، ج:6، ص:41، ط: دارالكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے :
"ولأن النساء أمرن بالقرار فی البیوت فکان مبنی حالھن علی الستر و الیه أشار النبی صلی اللہ علیہ وسلم حیث قال : کیف یفلح قوم تملکھم إمراۃ."
(باب الإمامة، مطلب في شروط الإمامة الكبرى ،ج: 1 ،ص: 548،ط:سعید )
البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:
"وصرح في النوازل بأن نغمة المرأة عورة وبنى عليه أن تعلمها القرآن من المرأة أحب إلي من تعلمها من الأعمى ولهذا قال - صلى الله عليه وسلم - «التسبيح للرجال والتصفيق للنساء» فلا يجوز أن يسمعها الرجل ومشى عليه المصنف في الكافي فقال ولا تلبي جهرا؛ لأن صوتها عورة ومشى عليه صاحب المحيط في باب الأذان وفي فتح القدير وعلى هذا لو قيل إذا جهرت بالقرآن في الصلاة فسدت كان متجها."
(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، ج:1، ص:285، ط:دارالكتاب الإسلامي)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"کل أمر بمعروف یتضمن منکراً یسقط وجوبه، کذا في الوجیز للکردري."
(کتاب الکراھیة، الباب الرابع في الصلاة والتسبیح، ج:5، ص:317، ط:دارالفکر)
الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے:
"اختلاط الرجال بالنساء: يختلف حكم اختلاط الرجال بالنساء بحسب موافقته لقواعد الشريعة أو عدم موافقته، فيحرم الإختلاط إذا كان فيه:
أ - الخلوة بالأجنبية، والنظر بشهوة إليها.
ب - تبذل المرأة وعدم احتشامها.
ج - عبث ولهو وملامسة للأبدان كالاختلاط في الأفراح والموالد والأعياد، فالاختلاط الذي يكون فيه مثل هذه الأمور حرام، لمخالفته لقواعد الشريعة.
قال تعالى: {قل للمؤمنين يغضوا من أبصارهم} . . . {وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن} .
وقال تعالى عن النساء: {ولا يبدين زينتهن} وقال: {إذا سألتموهن متاعا فاسألوهن من وراء حجاب} . ويقول النبي صلى الله عليه وسلم: لا يخلون رجل بامرأة فإن ثالثهما الشيطان. وقال صلى الله عليه وسلم لأسماء بنت أبي بكر يا أسماء إن المرأة إذا بلغت المحيض لم يصلح أن يرى منها إلا هذا وهذا وأشار إلى وجهه وكفيه ..
ويجوز الإختلاط إذا كانت هناك حاجة مشروعة مع مراعاة قواعد الشريعة."
(بحث الإختلاط، ج:2، ص:290-291، ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)
و فیه ایضاً:
"ويجب أن يكون تعليم النساء مع مراعاة آداب أمر الشارع المرأة بالتزامها للحفاظ على عرضها وشرفها وعفتها، من عدم الإختلاط بالرجال، وعدم التبرج، وعدم الخضوع بالقول إذا كانت هناك حاجة للكلام مع الأجانب."
(بحث تعليم و تعلم، تعليم النساء، ج:13، ص:13، ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)
فتاوٰی رحیمیہ میں ہے:
"عورتوں کواور لڑکیوں کی دینی تعلیم کابہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر جگہ اور ہر بستی میں مقامی طور پر اُن کی تعلیم کاانتظام کیاجائے، کہ عورتیں اورلڑکیاں پردہ کے پورے اہتمام کے ساتھ آمدورفت کریں اور ایسی قابلِ اعتماد رفاقت اختیار کریں کہ وہ بدنامی سے بالکل محفوظ رہیں اور اُن کی عصمت وپاکدامنی، عزت وآبرو پر کوئی داغ دھبہ نہ آئے اور شام تک اپنے گھر میں واپس پہنچ جائیں، اُن کے بڑے اور اولیاء اُن کی تعلیم اور آمدورفت کی پوری نگرانی کریں، عورتوں اور لڑکیوں کی تعلیم کا یہ طریقہ ان شاء اللہ فتنوں سے محفوظ رہے گا...الخ۔"
(کتاب العلم والعلماء، تعلیمِ نسواں کی اہمیت، ج:۴، ص:۱۶۳، ط: دارالاشاعت)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
فتویٰ نمبر : 144702101328
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن