بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کلاؤڈ نوڈ ایپ( cloud node app) سے پیسے کمانے کا حکم


سوال

 آج کل cloud node appسے لوگ پیسے کماتے ہیں؟ لہذا یہ پیسے حلال ہیں یا حرام اور یہ کس چیز کےضمن میں آتا ہے ؟ اور اس میں کوئی جائزصورت یا حیلہ  ہو سکتا ہےاگر یہ ناجائز ہو تب؟ تاکہ اس میں شامل لوگ اس سے کسی طریقے سے نکلیں؟

جواب

واضح رہے کہ کلاؤڈ  نوڈاپلیکیشن (Cloud Node App)کرپٹو کرنسی  کی اورڈیجیٹل کرنسی کی مائننگ اور انویسمنٹ  کے لیے استعمال کیے جانے والا  پلیٹ فارم ہے،جبکہ موجودہ زمانہ میں جتنی بھی ڈیجیٹل کرنسی یا کرپٹوکرنسی رائج ہیں،ان کے ذریعہ ٹریڈنگ (تجارت) کرنا یا ان میں کسی بھی قسم کی انویسمنٹ کرنا ناجائز ہے،اور ان سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز نہیں،اس لیے کہ مذکورہ کرنسیوں میں حقیقی کرنسی کے اوصاف و شرائط نہیں پائی جاتی ہیں۔ 

لہذا صورتِ مسئولہ میں  کلاؤڈ  نوڈاپلیکیشن (Cloud Node App)کے ذریعہ پیسے کمانا جائز نہیں،باقی  اگر کوئی اس ایپلیکیشن میں  انویسمنٹ کے لیے  اپنی رقم لگاچکا  ہو تو وہ صرف اپنی لگائی ہوئی اصل رقم واپس لے سکتا ہے،بقیہ رقم(نفع)حلال نہیں ہوگا،اس نفع کو بلانیتِ ثواب صدقہ کردے۔

احكام القرآن للجصاص ميں ہے:

"فكذلك قوله تعالى: {لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل} نهي لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل. وأكل مال نفسه بالباطل إنفاقه في معاصي الله; وأكل مال الغير بالباطل قد قيل فيه وجهان: أحدهما: ما قال السدي وهو أن يأكل بالربا والقمار والبخس والظلم، وقال ابن عباس والحسن: أن يأكله بغير عوض..

أن النهي عن أكل مال الغير معقود بصفة وهو أن يأكله بالباطل وقد تضمن ذلك أكل أبدال العقود الفاسدة كأثمان البياعات الفاسدة...وكذلك ثمن كل ما لا قيمة له ولا ينتفع به كالقرد والخنزير والذباب والزنابير وسائر ما لا منفعة فيه، فالانتفاع بأثمان جميع ذلك أكل مال بالباطل."

(باب التجارات وخيار البيع، ج:2، ص:216، ط:دار الكتب العلمية)

عمدة القاری ميں ہے:

"وقال الخطابي: كل شيء يشبه الحلال من وجه والحرام من وجه هو شبهة، والحلال اليقين: ما علم ملكه يقينا لنفسه، والحرام البين ما علم ملكه لغيره يقينا، والشبهة: ما لا يدري أهو له أو لغيره، فالورع اجتنابه. ثم الورع على أقسام: واجب، كالذي قلناه. ومستحب، كاجتناب معاملة من أكثر ماله حرام، ومكروه كالاجتناب عن قبول رخص الله والهدايا."

(کتاب البیوع، باب تفسیر المتشابهات، ج:11، ص:166، ط:داراحیاءالتراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102055

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں