
"عن النواس بن سمعان الأنصاري قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البر والإثم فقال: البر حسن الخلق، والإثم ما حاك في صدرك، وكرهت أن يطلع عليه الناس ."رواه مسلم
مذکورہ روایت کے متعلق سوال ہے ، اگر کوئی شخص پان سگریٹ ، الیکٹرونک سیگریٹ وغیرہ پیتا ہے، یا پھر اس طرح کی کوئی اور نشے والی چیز استعمال کرتا ہے، اور لوگوں سے ڈرتا ہے کہ وہ اسکے اس عمل پر مطلع نہ ہو جائیں، اگر چہ مذکورہ اشیاءوغیرہ کا استعمال حرام نہیں ہے، مذکورہ روایت کی روشنی میں اس کا کیا حکم ہے؟ اور حقہ شیشہ وغیرہ جو خوشبو فلیور ذائقے والا ہوتا ہے اسکے پینے کا کیا حکم ہے؟
مذکورہ حدیث میں حضور -صلی اللہ علیہ وسلم- نے گناہ کی دو بڑی علامتیں بیان فرمائی ہیں، پہلی علامت یہ ہے کہ کسی کام کے کرنے میں دل میں تردد، بے چینی اور شک پیدا ہو اور اس کام پہ دل مطمئن نہ ہو، یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کام میں کسی نہ کسی درجہ میں گناہ یا کراہیت پائی جاتی ہے، یہ کیفیت اس شخص کے لیے ہے جس کا دل نور ایمان سے منور ہو اور اس شخص کا سینہ اللہ تعالی نے کھول لیا ہو۔
دوسری علامت یہ ہے کہ دل میں یہ ڈر اور خوف ہو کہ لوگوں کو اس کا علم ہو،
مذکورہ حدیث کا تعلق مشتبہ امور سے ہے، جہاں نصوص میں کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے کے بارے میں کوئی صریح حکم موجود نہ ہو۔
سگریٹ، حقہ اور شیشہ نوشی نہ تو حرام ہے اور نہ ہی بالکلیہ مباح ہے،تاہم درج ذیل مفاسد پائے جانے کی وجہ سے ان اشیاء کا استعمال مکروہ تنزیہی ہے:
لمعات التنقیح میں ہے:
”وقوله: (والإثم ما حاك في صدرك) أي: أثر فيه وأوقعك في التردد، ولم يطمئن قلبك، فإن ذلك أمارة أن في ذلك شيئًا من الإثم والكراهة، وهذا هو المراد بقوله صلى الله عليه وسلم: (استفت قلبك)، وهذا في حق من شرح اللَّه صدره ونور قلبه، ومر ذلك فيما لم يكن فيه نص من الشارع وإجماع من العلماء، فكانت النصوص متعارضة والأقوال مختلفة، فيختار أحدها بفتوى القلب.“
(كتاب الآداب، باب الرفق والحياء وحسن الخلق، الفصل الأول، ج: 8، ص: 364، ط: دار النوادر)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
”(وكرهت أن يطلع عليه الناس) أي: أعيانهم وأمثالهم إذ الجنس ينصرف إلى الكامل، وذلك لأن النفس بطبعها تحب اطلاع الناس على خيرها، فإذا كرهت الاطلاع على بعض أفعالها فهو غير ما تقرب به إلى الله، أو غير ما أذن الشرع فيه، وعلم أنه لا خير فيه ولا بر، فهو إذا إثم وشر (رواه مسلم) .“
(كتاب الآداب، باب الرفق والحياء وحسن الخلق، الفصل الأول، ج:8، ص: 3174، ط: دار الفكر)
رد المحتار میں ہے:
”(قوله وأكل نحو ثوم) أي كبصل ونحوه مما له رائحة كريهة للحديث الصحيح في النهي عن قربان آكل الثوم والبصل المسجد. قال الإمام العيني في شرحه على صحيح البخاري قلت: علة النهي أذى الملائكة وأذى المسلمين ولا يختص بمسجده عليه الصلاة والسلام، بل الكل سواء لرواية مساجدنا بالجمع، خلافا لمن شذ ويلحق بما نص عليه في الحديث كل ما له رائحة كريهة مأكولا أو غيره، وإنما خص الثوم هنا بالذكر وفي غيره أيضا بالبصل والكراث لكثرة أكلهم لها.“
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فيها، ج: 1، ص: 661، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101126
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن