
سگریٹ کا کاروبار جائز ہے یا ناجائز؟ میں چاہتا ہوں کہ سگریٹ خرید لوں، جب مہنگی ہوجائے تو بیچ دوں، کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
سگریٹ نوشی انسانی صحت کے لیے مضر اور بے شمار بیماریوں کا پیش خیمہ ہونے کے ساتھ ساتھ مال کا ضیاع اور دوسروں کے لیے باعث ضرربھی ہے ،اس لیے اس سے احتراز کرنا چاہیے ،تاہم اس پر حرام کا حکم نہیں لگایا جاسکتا، اس کا استعمال کراہت سے خالی نہیں ،تاہم اس کے کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے۔
لہذاصورت مسئولہ میں سائل کےلئےسگریٹ خریدکر مہنگی ہوجانےپر بیچ دینے کی گنجائش ہے،البتہ ا س کےعلاوہ کوئی اورجائزذریعہ معاش اختیارکرلےتوبہترہے۔
کفایت المفتی میں ہے:
"(سوال ) میں نے ایک دکان فی الحال کھولی ہے جس میں متفرق اشیاء ہیں، ارادہ ہے کہ سگریٹ اور پینے کا تمباکو بھی رکھ لوں، یہ ناجائز تو نہیں ہوگا ؟
( جواب ۱۶۳) سگریٹ اور تمباکو کی تجارت جائز ہے او ر اس کا نفع استعمال میں لانا حلال ہے۔محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ۔"
(ج:9، ص:148)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
"تمباکو کی کاشت بھی جائز ہے اور تجارت بھی جائز ہے، استعمال بھی جائز ہے، الا یہ کہ وہ نشہ آور ہو تب منع کیا جائے گا، مسجد میں جانے کے لیے منہ صاف کر کے اس کی بدبو کو زائل کر نے کا اہتمام کیا جائے۔"
(ج:18، ص:397)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وفي الأشباه في قاعدة: الأصل الإباحة أو التوقف، ويظهر أثره فيما أشكل حاله كالحيوان المشكل أمره والنبات المجهول سمته اهـ قلت: فيفهم منه حكم النبات الذي شاع في زماننا المسمى بالتتن فتنبه. (قوله: ربما أضر بالبدن) الواقع أنه يختلف باختلاف المستعملين ط (قوله: الأصل الإباحة أو التوقف) المختار الأول عند الجمهور من الحنفية والشافعية كما صرح به المحقق ابن الهمام في تحرير الأصول (قوله: فيفهم منه حكم النبات) وهو الإباحة على المختار أو التوقف. وفيه إشارة إلى عدم تسليم إسكاره وتفتيره وإضراره، وإلا لم يصح إدخاله تحت القاعدة المذكورة ولذا أمر بالتنبه."
(كتاب الأشربة، ج:6، ص:460، ط:دار الفكر۔بيروت)
وفیہ ایضاً:
"(و) كره (احتكار قوت البشر) كتبن وعنب ولوز (والبهائم) كتبن وقت (في بلد يضر بأهله) لحديث «الجالب مرزوق والمحتكر ملعون» فإن لم يضر لم يكره."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:398، ط:دار الفكر۔بيروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144605100742
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن