بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

سگریٹ اور تمباکو کے کاروبار کا حکم


سوال

سگریٹ اور تمباکو کے کاروبار کا حکم بتائیں!

جواب

سیگریٹ نوشی منہ میں بدبو کا سبب ہونے کی وجہ سے مکروہِ تنزیہی ہے، حرام نہیں ہے، اور  اس کی آمدنی حلال ہے ۔ تاہم اگر حلال اشیاء میں اس سے بہتر کوئی کاروبار میسر ہو تو وہ زیادہ بہتر ہوگا۔ تمباکو کا کاروبار بھی جائز ہے۔

کفایت المفتی میں ہے:

’’(سوال) میں نے ایک دکان فی الحال کھولی ہے جس میں متفرق اشیاء ہیں، ارادہ ہے کہ سگریٹ اور پینے کا تمباکو بھی رکھ لوں یہ ناجائز تو نہیں ہوگا ؟

( جواب ۱۶۳) سگریٹ اور تمباکو  کی تجارت جائز ہے او ر اس کا نفع استعمال میں لانا حلال ہے ۔محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ‘‘۔(9/148)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208201422

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں