
میں اپنے محلّہ سے دور ایک مدرسہ میں پڑھتا تھا ،اُس وقت میری عمر 16 سال تھی ،میرا ایک دوست تھا جس کی داڑھی پورے چہرہ پر نہیں تھی ، صِرف ہونٹ کے نیچے داڑھی تھی۔ تو ہم اُسے چکّہ chukkah کہتے تھے۔کیوں کہ ہم لوگوں کے محلّہ میں ایک مولوی صاحب تھے تُو سبھی لوگ اُن کو چکّی داڑھیکہتے تھے ۔بلکہ محلّہ میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جِس کی بھی داڑھی پورے چہرہ پر نہیں تھی ،صِرف ہونٹ کے نیچے ہڈی پر اور ہڈی کے دائیں بائیں جانب تھوڑے بال ہوتے تھے ، تُو لوگ کہتے کہ اِس کی چُکی داڑھی ہے ۔تو ہم اپنے دوست کو جو چکّہ کہہ کر تنگ کرتے تھے کیا یہ کُفرِیہ الفاظ تھے ؟ اگر کفریہ تھے تو میں توبہ اور تجدید ایمان کرلیتا ہوں ، اور کیا اس کے بعد میں کسی لڑکی سے نکاح کرسکتاہوں ؟
صورتِ مسئولہ میں اگرہونٹ کے نیچے معمولی داڑھی والے شخص کے لیے "چکہ"یا"چکی داڑھی "کے الفاظ اس ظاہری وضع قطع والے شخص کے لیے استعمال کیے ہوں ، اس سے داڑھی کا استہزاء مقصود نہ تھا جیساکہ سوال میں صراحت ہے ، توان الفاظ کی ادائیگی کی وجہ سے کفر لازم نہیں آئے گا، اور تجدیدِ ایمان لازم نہیں ہے، تاہم آئندہ اس طرح کے الفاظ بولنے سے بھی احتیاط کرنی چاہیے ، تاہم سائل کے دل میں کوئی اندیشہ ہو اور وہ اپنے اطمینان کی غرض سے تجدید ایمان کرلے تو جائز ہے ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدًا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافًا بها بسبب أنه فعلها النبي صلى الله عليه وسلم زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به".
(باب المرتد، ج:4، ص:222، ط:سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144510102026
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن